ایپسٹین کیس میں تعلق ظاہر ہونے پر برطانوی سیاستدان نے لیبرپارٹی سے استعفیٰ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
ایپسٹین کیس میں تعلق ظاہر ہونے پر برطانوی سیاستدان لارڈمینڈلسن نے لیبرپارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔
لارڈ مینڈلسن کے مطابق وہ پارٹی کے لیے مزید شرمندگی کا باعث نہیں بننا چاہتے اس لیے استعفیٰ دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی تازہ ریلیز فائلزکے مطابق ایپسٹین نے لارڈ مینڈلسن کے لیے 55 ہزار پاؤنڈ بنائے، 2003 اور 2004 کے درمیان ایپسٹین نےلارڈ مینڈلسن کے ریفرنس سے رقم بھیجی۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایپسٹین نے 25 ہزار ڈالر کی تین ادائیگیاں بھیجیں۔
میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ لارڈ مینڈلسن نےکہا تھا کہ ان کے پاس رقوم وصول کرنے کا ریکارڈ نہیں اور نہ یاد ہے،لارڈ مینڈلسن نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ دستاویز مستند ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لارڈ مینڈلسن
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔