خلیجی ممالک کیلئے پروٹیکٹر رجسٹریشن میں سافٹ اسکلز سرٹیفکیٹ کی شرط کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسلام آباد(آئی این پی )بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک کیلئے پروٹیکٹر رجسٹریشن میں سافٹ اسکلز سرٹیفکیٹ کی شرط کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کر دی۔
بیورو کے مطابق یہ شرط پہلے یکم فروری 2026 سے نافذ کی جانی تھی، تاہم اب اس کا اطلاق یکم مارچ 2026 سے ہوگا۔ اس فیصلے سے پاکستان میں موجود محنت کشوں، ہنرمند افراد اور بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند شہریوں کو تیاری کیلئے مزید وقت مل جائے گا، جس سے سفری اور دستاویزی امور میں آسانی پیدا ہوگی۔حکام کا کہنا ہے کہ توسیع کا مقصد خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت کیلئے بہتر اور منظم مواقع فراہم کرنا ہے، تاکہ عالمی معیار کے مطابق ہنر اور سافٹ اسکلز کے ساتھ ملازمت کے امکانات بڑھائے جا سکیں۔
گرفتاری بے لگام طاقت کی ہوس سے تعبیر ، امریکی عدالت کا غیرقانونی تارکین وطن کیخلاف مہم میں گرفتار 5 سالہ بچے کی رہائی کا حکم
درخواست دہندگان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سرکاری ویب سائٹس اور مستند ذرائع سے تازہ ہدایات اور تقاضوں سے باخبر رہیں۔بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے اس سے قبل بیرون ملک ملازمت کیلئے نئے آن لائن پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ سے متعلق وضاحت بھی جاری کی تھی۔ بیورو کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق بعض غیر ذمہ دار عناصر یہ تاثر دے رہے تھے کہ یکم فروری 2026 سے بیرون ملک جانے والے تمام افراد کیلئے آن لائن پروٹیکٹر (ای پروٹیکٹر) سرٹیفکیٹ لازمی قرار دے دیا گیا ہے، جو درست نہیں۔
بیورو نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور کسی بھی قسم کی معلومات کیلئے صرف سرکاری اعلانات پر اعتماد کریں۔
آسٹریلیا کے خلاف آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں ریکارڈز کے انبار لگ گئے، تاریخ رقم
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔