پنجاب میں میٹرک و انٹرمیڈیٹ امتحانات کیلئے طلبا کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی قرار
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب میں 2026 کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ امتحانات میں نقل، جعلسازی اور بے ضابطگیوں کے خاتمے اور شفافیت بڑھانے کے لیے طلبا کی ڈیجیٹل بایومیٹرک تصدیق متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔لاہور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISE) میں منعقدہ ایک اجلاس میں طلبا کی بائیومیٹرک تصدیق کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں پنجاب کے تمام نو تعلیمی بورڈز کے سینئر افسران نے شریک تھے۔اجلاس میں ہونے والے فیصلے کے تحت طلبا کی شناخت امتحانی ہال میں داخلے سے قبل ڈیجیٹل طور پر تصدیق کی جائے گی۔
نئی دہلی مکمل فنڈنگ کر رہی ہے،دہشت گرد جو زبان سمجھتے ہیں انہیں اسی میں جواب دیا جائے گا، :خواجہ آصف
پریکٹیکل امتحانات کے نظام میں بھی اصلاحات کی منظوری دی گئی۔ جن میں معیاری گریڈنگ سسٹم، لیبارٹریز میں سی سی ٹی وی مانیٹرنگ اور ڈیجیٹل مارکنگ سسٹم شامل ہیں۔ تاکہ انسانی غلطیوں اور بدعنوانی کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔اس کے علاوہ امتحانی عملے اور نگرانوں کو زیادہ معاوضہ دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ تاکہ دیانتداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ٹاسک فورس کمیٹی کے چیئرمین مزمل محمود نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے نتائج پر اثر انداز ہونے یا رشوت کے ذریعے مداخلت کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
امام بری کے سجادہ نشین مخدوم سید نزاکت حسین کاظمی 65 سال کی عمرمیں انتقال کر گئے
حکام کے مطابق یہ اصلاحات پنجاب کے تعلیمی نظام پر عوام اور طلبا کے اعتماد کی بحالی اور امتحانات کو منصفانہ اور شفاف بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔لاہور بی آئی ایس ای نے تصدیق کی ہے کہ ان اصلاحات سے متعلق تفصیلی رہنما اصول 2026 کے امتحانی سیزن سے قبل تمام اسکولوں کے ساتھ شیئر کر دیئے جائیں گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: طلبا کی
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں