ایس آئی ایف سی کے تحت لائیوسٹاک شعبے کی جدید خطوط پر بحالی، پیداوار اور برآمدات میں نمایاں بہتری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) پاکستان کے لائیوسٹاک شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے، جس کا مقصد زرعی معیشت کو مضبوط بنانا اور ملکی ترقی میں لائیوسٹاک کے کردار کو مزید فعال بنانا ہے۔
اسی سلسلے میں گرین کارپوریٹ لائیوسٹاک انیشیٹو (جی سی ایل آئی) کے تحت جدید بریڈنگ ٹیکنالوجی، جینیاتی بہتری اور تربیتی پروگرام متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جی سی ایل آئی کے تحت امریکا اور برازیل سے اعلیٰ نسل کے مویشیوں کی کھیپ حالیہ عرصے میں پاکستان درآمد کی گئی ہے، جس سے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں نمایاں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب فون گروپ کی جانب سے لائیوسٹاک کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائی گئی، جس کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔
لمز گرین پاکستان انیشیٹو سے تعلق رکھنے والے فضیل ارشد کا کہنا ہے کہ گرین پاکستان انیشیٹو ملک میں زرعی انقلاب برپا کرنے کے لیے کوشاں ہے اور خاص طور پر گوشت اور دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے دن رات کام جاری ہے۔ ان کے مطابق جی سی ایل آئی کے ذریعے اعلیٰ نسل کے جانور درآمد کر کے مقامی لائیوسٹاک کی جینیاتی صلاحیت بہتر بنائی جا رہی ہے۔
ہیڈ آف میٹ پروسیسنگ اینڈ ایکسپورٹ نوید اقبال نے بتایا کہ ایس آئی ایف سی کی انتھک محنت اور مؤثر کاروباری حکمت عملی کے باعث پاکستان کی میٹ ایکسپورٹ 9 ممالک سے بڑھ کر 13 ممالک تک پہنچ چکی ہے، جس سے عالمی منڈی میں پاکستان کی تجارتی ساکھ مزید مستحکم ہوئی ہے۔
نوید اقبال کے مطابق خلیجی ممالک کو میٹ ایکسپورٹ سے بڑے پیمانے پر کاروباری مواقع پیدا ہوں گے اور فارن ایکسچینج میں نمایاں اضافہ ممکن ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو طرفہ تجارت اور میٹ ایکسپورٹ میں وسعت سے کسانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک میں معاشی خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔