وزارت تعلیم کے ذیلی اداروں میں سربراہوں کی عدم تعیناتی، انتظامی امور شدید متاثر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ذیلی ادارے طویل عرصے سے ایڈہاک بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں جس کے باعث انتظامی بحران سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت اور وفاقی وزیر تعلیم اس صورتحال پر بے بس نظر آتے ہیں، جبکہ بیوروکریسی ایک ہی وقت میں وزارت میں اہم عہدوں کے ساتھ ماتحت اداروں کے اضافی چارجز بھی انجوائے کر رہی ہے۔
وفاقی وزارتِ تعلیم کے ماتحت ہائر ایجوکیشن کمیشن، وفاقی نظامتِ تعلیمات، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اسپیشل ایجوکیشن اور پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی میں مستقل سربراہوں کی عدم تعیناتی کے باعث پالیسی سازی، فیصلوں اور روزمرہ کے انتظامی امور شدید متاثر ہو رہے ہیں جبکہ بعض معاملات میں مبینہ مالی بدعنوانی کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن اس وقت مستقل چیئرمین کے بغیر ہے۔ سابق چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کے بعد نئے چیئرمین کی تعیناتی کے لیے سمری وزیراعظم کو ارسال کی گئی تھی تاہم اسے مسترد کر دیا گیا، جس کے بعد تاحال کوئی نیا پراسیس شروع نہیں ہو سکا۔
اسی طرح ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اسپیشل ایجوکیشن، جو خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کا اہم ادارہ ہے، وہاں بھی مستقل ڈائریکٹر جنرل تعینات نہیں کیا گیا اور اس کا عارضی چارج وزارت تعلیم کے جوائنٹ سیکرٹری آصف اقبال آصف کے پاس ہے۔
وفاقی دارالحکومت کے 422 سے زائد سرکاری تعلیمی اداروں کے انتظامی امور دیکھنے والے ادارے وفاقی نظامتِ تعلیمات میں بھی طویل عرصے سے مستقل ڈائریکٹر جنرل تعینات نہیں ہو سکا۔ یہاں بھی ڈی جی کا عارضی چارج وزارت تعلیم کے سینیئر جوائنٹ سیکرٹری ایڈمن سید جنید اخلاق کے پاس ہے ، جبکہ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی میں بھی مستقل سربراہ کی عدم تعیناتی برقرار ہے اور ادارے کا عارضی چارج آئی بی سی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح کو دیا گیا ہے۔
تعلیمی ماہرین اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت فوری طور پر شفاف اور میرٹ پر مستقل سربراہان کی تعیناتی عمل میں لائے تاکہ ادارہ جاتی استحکام بحال ہو، انتظامی بحران کا خاتمہ ممکن ہو اور تعلیمی نظام کو درپیش سنگین مسائل پر مؤثر قابو پایا جا سکے۔
وزیر مملکت برائے وفاقی وزارت تعلیم وجیہہ قمر نے اس حوالے سے سوال پر بتایا کہ اداروں کے سربراہان کی تقرری کا عمل جاری ہے، جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزارت تعلیم تعلیم کے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔