ہمیں چھیڑوگے تو کراچی کے غیور جوان تمہاری نسلیں تباہ کردیں گے، گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے بھارت کو خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں چھیڑو گے تو ہم تمہیں چھوڑے گے نہیں، تمھاری نسلیں تباہ کر دیں گے۔
اپنے ایک جاری بیان میں کامران ٹیسوری نے نریندرمودی کو انتہا پسند ہندو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی پاکستانی شخص کو بھارتی ایجنٹس نے دہشت گردی کا نشانہ بنایا تو تمہارے ملک میں گھس کر تمہیں ماریں گے۔
کامران ٹیسوری نے کہا کہ بلوچستان میں میرےکسی بھائی، بہن یا بچوں کا خون بہےگا تو تمہاری نسلوں کو تباہ کردیں گے۔
گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ اب افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر کراچی کے غیور جوان تمہیں نہیں بخشیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔