پیپلزپارٹی نئے صوبوں پر دوغلی سیاست کر رہی ہے،ایم کیو ایم رہنما زاہد ملک
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
پیپلزپارٹی نئے صوبوں پر دوغلی سیاست کر رہی ہے،ایم کیو ایم رہنما زاہد ملک WhatsAppFacebookTwitter 0 2 February, 2026 سب نیوز
کراچی(آئی پی ایس) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے مرکزی رہنما زاہد ملک نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر پاکستان پیپلزپارٹی پر دوغلی اور منافقانہ سیاست کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی ماضی میں نئے صوبوں کی حامی رہی ہے لیکن اب سیاسی مفاد کی خاطر یوٹرن لے رہی ہے۔
زاہد ملک نے کہا کہ پیپلزپارٹی 2012 میں صوبہ بہاولپور کی بحالی اور جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی کھل کر حمایت کرچکی ہے، حتیٰ کہ اس حوالے سے پنجاب اسمبلی میں متفقہ قرارداد کی بھی تائید کی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پنجاب میں نئے صوبوں کا قیام درست تھا تو سندھ اور کراچی کے لیے یہی اصول کیوں قابلِ قبول نہیں؟
ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اگر واقعی عوامی مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے تو انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کیوں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 13 سال بعد نئے صوبوں کے معاملے پر یوٹرن لینا پیپلزپارٹی کی سیاسی منافقت کا واضح ثبوت ہے۔
زاہد ملک نے مزید کہا کہ جو چیز پنجاب کے لیے اچھی سمجھی جاتی ہے وہی سندھ اور کراچی کے لیے بُری کیوں قرار دی جا رہی ہے، یہ دہرا معیار ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف دونوں کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی گزشتہ 17 سال سے سندھ میں جبکہ پی ٹی آئی 13 سال سے خیبرپختونخوا میں اقتدار میں ہے، مگر دونوں صوبوں میں عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
زاہد ملک کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتیں ایک دہائی سے زائد عرصہ سے اقتدار میں ہیں اوراپنی نااہلی کا الزام وفاق پر لگا رہی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم سے عمران خان سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی وزیراعظم سے عمران خان سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری، 3 دن میں 177 دہشت گرد ہلاک ایپسٹین کیس میں تعلق ظاہر ہونے پر برطانوی سیاستدان نے لیبرپارٹی سے استعفیٰ دیدیا لندن: بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی طبیعت انتہائی ناساز، رات گئے اسپتال منتقل وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پی کے درمیان ملاقات، سکیورٹی کی صورتحال سمیت اہم امور زیر غور سندھ طاس معاہدے کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں: وزیراعظمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کہ پیپلزپارٹی ایم کیو ایم زاہد ملک ایم کی رہی ہے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔