بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں تیز:مزید 22 دہشتگرد ہلاک، تعداد 177 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور دہشت گرد عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے سیکورٹی فورسز کی جانب سے سینیٹائزیشن آپریشنز بھرپور انداز میں جاری ہیں۔
میڈیا ذرائع کے مطابق اس دوران گزشتہ 3 دنوں میں بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر کم از کم 177 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جسے حالیہ عرصے میں دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ آپریشنز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فتنۃ الہندوستان سے منسلک حملہ آور گروہوں کے خلاف کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد صوبے میں بدامنی پھیلانا، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا تھا۔
سیکورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر متعدد مقامات پر تعاقبی کارروائیاں کیں، جن کے دوران گزشتہ شب مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جس کے بعد 3 روزہ آپریشنز میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 177 تک پہنچ گئی۔
سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں مرحلہ وار کی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکے۔ فورسز نہ صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں بلکہ ان کے معاون نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے سیکورٹی فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور پولیس مشترکہ طور پر مختلف علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز انجام دے رہی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ جاری کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے مزید نقصانات کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، تاہم حتمی تصدیق مکمل ہونے کے بعد تفصیلات جاری کی جائیں گی۔ ان آپریشنز کا مقصد صرف مسلح عناصر کا خاتمہ نہیں بلکہ ان کے لاجسٹک سپورٹ سسٹم کو بھی توڑنا ہے تاکہ مستقبل میں دہشت گردی کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔
سیکورٹی حکام کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف یہ کارروائیاں ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت حساس علاقوں میں نگرانی بڑھائی جا رہی ہے اور مشتبہ سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ فورسز کا کہنا ہے کہ ریاست دشمن عناصر کو کسی بھی صورت میں دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔
مقامی سطح پر ان آپریشنز کو امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف مؤثر اور مسلسل کارروائیاں صوبے میں معمولاتِ زندگی کی بحالی اور ترقیاتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ناگزیر ہیں۔ سیکورٹی اداروں نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ بلوچستان میں دیرپا امن کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک دہشت گردی کے خطرے کا مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ فورسز نے واضح کیا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیوں میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور ریاست کی سلامتی پر سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ذرائع کے مطابق بلوچستان میں رہی ہیں کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔