سوشل سیکورٹی اسپتال کوٹری کی مینجمنٹ کمیٹی کی کارکردگی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کمشنر سوشل سیکورٹی سندھ کی جانب سے پچھلے سا ل سندھ میں اسپتالوں کی دیکھ بھال اور محنت کشوں کے علاج معالجہ کے بلوں کی ادائیگی کے لیے مینجمنٹ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ سوشل سیکورٹی اسپتال کوٹری کی مینجمنٹ کمیٹی نے ایک سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کوٹری سائٹ کے محنت کشوں کی بڑی تعداد نے اسپتال میں بھی علاج کروایا اور ان کو علاج معالجہ اور ادویات کے لیے کسی قسم کی کوئی پریشانی کا سامنانہیں کرنا پڑا میڈیکل سپرٹینڈنٹ الیاس میمن اور چیف میڈیکل آفیسر اور اسپتال کے تمام ڈاکٹرز، نرسس، اسٹاف کی جانب سے دستیاب سہولیات جو کہ انتہائی قلیل ہیں لیکن اس کے باوجود انتظامیہ نے جس طرح اسپتال کی دیکھ بھال ، صفائی ستھرائی اور دیگر امور میں خدمات انجام دی ہیں وہ قابل تعریف ہیں ایم ایس الیاس میمن کی ذاتی کوششوں اور کاوشوں سے مینجمنٹ کمیٹی کے بھر پور تعاون سے محنت کشوں کے مسائل اور ان کے علاج معالجہ کے اخراجات کے بل جانچ پڑتال کے بعد منظور کیے گئے وہ دو سو سے زائد ہیں کوٹری اسپتال ایک اہم مقام پر موجود ہے کوٹری چونکہ انتہائی اہم صنعتی علاقہ ہے جس میں سینکڑوں فیکٹریاں اور کمپنیاں کارخانے کام کر رہے ہیں جس سے ہزاروں محنت کش اپنا روزگار حاصل کرتے ہیں اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ کوٹری اسپتال کوٹری، سائٹ، جامشورو اور ارد گرد کے علاقوں کے علاوہ نوری آباد کے بھی محنت کشوں کے علاج کے لیے سہولیات فراہم کر رہا ہے ۔
مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے ایم ایس ،ڈائریکٹر سیسی کوٹری اور دیگر ارکان کمیٹی کی کاوشوں سے محنت کشوں کے جائز اور قانونی اخراجات کے بل ادا کرنے میں ایم ایس اور ڈائریکٹر کے ساتھ ساتھ اسٹاف بھی مکمل تعاون کرتا ہے جس سے محنت کشوں کو ان کے اخراجات کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوئی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
کمشنر سوشل سیکورٹی کی جانب سے مینجمنٹ کمیٹیوں کی تعیناتی سے محنت کشوں میں اطمینان اور اعتماد پیدا ہوا ہے کہ ان کے جائز اور قانونی اخراجات کے بلوں کی ادائیگی فوری ہو جاتی ہے جس سے محنت کشوں میں اطمینان پایا جاتا ہے۔
کوٹری سیسی اسپتال کو درپیش مسائل
کوٹری اسپتال سوشل سیکورٹی کا سائٹ کوٹری میں اہم اسپتال ہے جو کہ ہزاروں محنت کشوں کو علاج معالجے کہ سہولیات فراہم کر رہا ہے لیکن اسٹاف کی موجودگی ہونے کے بجائے بیشتر ڈاکٹرز ، نرسس اور دیگر اسٹاف سفارشی بنیادوں پر چھٹیوں پر یا غائب رہتے ہیں جس سے کوٹری اسپتال کے امور انجام دینے میں کام کرنے والے ڈاکٹر ز اور اسٹاف پر سخت دبائو اور کام کی زیادتی ہوتی ہے جس سے انتہائی خراب صورتحال پیدا ہو رہی ہے کمشنر سوشل سیکورٹی کی جانب سے سفارشی کلچر کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے تاکہ جو ڈاکٹرز اوراسٹاف محنت کشوں کے خون پسینے کے پیسوں سے بھاری بھاری تنخواہیں اور مراعات حاصل کر رہے ہیں وہ محنت کشوں کا علاج کرنے کے لیے اپنی ڈیوٹیاں انجام دیں اسپتال سے سفارش کلچر کو مکمل ختم کیا جائے تاکہ اسپتال کا ماحول بہتر ہو سکے ۔
کوٹری اسپتال میں انتہائی خوبصورت پارک موجود ہے جو کہ مریضوں کے لیے بہتر ماحول فراہم کرتا ہے لیکن بد قسمتی سے اسپتال میں مالی نہ ہونے کے برابر ہیں معلومات کرنے پر معلوم ہوا کہ کئی مالی حضرات سفارشی بنیادوں پر دوسری جگہ پر ٹرانسفر کرواکے چلے گئے ہیں جہاں پارک ہی موجود نہیں ہے لیکن تنخواہیں کوٹری اسپتال سے حاصل کر رہے ہیں اسی طرح کئی آفیسرز اور اسٹاف بھی دوسری جگہوں پر ٹرانسفر کرواکر تنخواہ کوٹری اسپتال سے حاصل کر رہے ہیں جس سے ایم ایس الیاس میمن اور دیگر اسٹاف کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ٹریڈ یونین رہنمائوں محنت کشوں کی انجمنوں اور دیگر سیاسی، سماجی شخصیات کی شکایت بھی سننے کو ملتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ سوشل سیکورٹی اسپتال کوٹری کو بہتر انداز سے چلانے کے لیے سفارشی کلچر اور تمام ڈیپوٹیشن پر گئے ہوئے ڈاکٹرز ،اسٹاف کو واپس اسپتال میں مستقل نوکری کرنے پر پابند کیا جائے اور او پی ڈی چوبیس گھنٹے جاری رکھی جائے تاکہ رات کے کسی وقت بھی خدا نخواستہ کسی فیکٹری یا کارخانے میں نا خوشگوار واقع پیش آ جائے تو محنت کشوں کو فوری علاج حاصل ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مینجمنٹ کمیٹی سوشل سیکورٹی اسپتال کوٹری کوٹری اسپتال محنت کشوں کے اسپتال میں کی جانب سے کر رہے ہیں اسپتال کو اور دیگر ایم ایس کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔