اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان، انڈیکس 300 پوائنٹس گر گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر منفی رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں 100 انڈیکس ابتدائی منٹوں میں 300 سے زائد پوائنٹس کی کمی کا شکار ہو گیا۔
صبح 9 بج کر 40 منٹ پربینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 183,847.01 پوائنٹس پر موجود تھا، جو 327.47 پوائنٹس یعنی 0.18 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔
ماری، او جی ڈی سی، پاکستان آئل لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، ایس ایس جی سی، فوجی فرٹیلائزرز، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک سمیت انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے شیئرز منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
Market is up at midday ????
⏳ KSE 100 is positive by +149.
— Investify Pakistan (@investifypk) February 2, 2026
ایک اہم پیش رفت میں یہ معلوم ہوا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز یعنی پی آئی اے کی نجکاری کا عمل اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق حکومت کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ نجی کنسورشیم کو انتظامی کنٹرول منتقل کرنے کے بعد 3 ماہ کے اندر اندر اپنے باقی ماندہ 25 فیصد شیئرزفروخت کر دے، جن کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے بتائی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس 188 ہزار پوائنٹس کی سطح برقرار نہ رکھ سکا
گزشتہ ہفتے کے دوران بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج دباؤ میں رہی، جہاں مانیٹری پالیسی پر مایوسی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توقعات سے کم کارپوریٹ نتائج کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس میں نمایاں کمی ہوئی۔
تاہم آخری کاروباری سیشن میں بیرونی خطرات میں کمی اور حکومتی معاون اقدامات کے باعث مارکیٹ نے مضبوط بحالی دکھائی۔
ہفتے کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 184,174 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار بنیاد پر 4,992 پوائنٹس یا 2.6 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
عالمی سطح پر، پیر کے روز ایشیائی اسٹاک مارکیٹس نے وال اسٹریٹ فیوچرز کی پیروی کرتے ہوئے مجموعی طور پر منفی رجحان اختیار کیا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان، انڈیکس 188 ہزار پوائنٹس کے قریب
قیمتی دھاتوں میں بے ترتیب اتار چڑھاؤ کے باعث ہفتے کا آغاز اعصابی ماحول میں ہوا، جبکہ آنے والے دنوں میں کارپوریٹ آمدنی رپورٹس، مرکزی بینکوں کے اجلاس اور اہم معاشی اعداد و شمار متوقع ہیں۔
چاندی کی قیمتوں میں ایک موقع پر مزید 5 فیصد کمی دیکھی گئی، جب کہ جمعے کو 30 فیصد کی بڑی گراوٹ کے بعد لیوریج پوزیشنز دباؤ میں آ گئیں۔
ڈیلرز کے مطابق چین میں یو بی ایس ایس ڈی آئی سی سلور فیوچرز فنڈ پر دباؤ نے بھی مارکیٹ میں فروخت کو تیز کیا۔
تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد کمی ہوئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں کہا کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ ’سنجیدگی سے بات چیت‘ کر رہا ہے، جس سے ایران پر امریکی فوجی حملے کے خطرات میں ممکنہ کمی آئی ہے۔
مزید پڑھیں: روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟
عالمی بے یقینی کے باعث جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 1.7 فیصد گر گیا۔
دوسری جانب جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں 2.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ چینی بلیو چِپ شیئرز مجموعی طور پر مستحکم رہے، تاہم سونے سے منسلک انڈیکسز میں کمی دیکھی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹاک ایکسچینج آمدنی انڈیکس پاکستان پی آئی اے تیل ڈونلڈ ٹرمپ فیوچرز فنڈ قیمتی دھات کارپوریٹ گراوٹ وال اسٹریٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج انڈیکس پاکستان پی ا ئی اے تیل ڈونلڈ ٹرمپ فیوچرز فنڈ کارپوریٹ گراوٹ وال اسٹریٹ اسٹاک ایکسچینج میں
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔