درخت کٹائی پر ہائیکورٹ برہم، ایڈووکیٹ جنرل کو میٹنگ کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے درختوں کی کٹائی کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو وزیر اعلیٰ اور سینئر وزیر سے فوری میٹنگ کرنے کی ہدایت کر دی۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کے بیانات اور زمینی حقائق میں واضح تضاد ہے، اگر درست اور بروقت کارروائی کی جائے تو کسی کی جرأت نہیں ہونی چاہیے کہ ایک درخت بھی کاٹ سکے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کی، دوران سماعت عدالتی حکم پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ درخت اب بھی کیوں کاٹے جا رہے ہیں اور ٹیکسالی و شیرانوالہ کے علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے درخت کیسے کاٹ دیئے گئے؟ عدالت نے نشاندہی کی کہ ناصر باغ میں بھی ایک منصوبہ جاری ہے جہاں درخت منتقل کیے گئے مگر اس کا علم بعد میں ہوا۔
سونے کی قیمت کے بعد بٹ کوائن کے نرخ میں بھی بڑی کمی
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ترقیاتی منصوبے جاری رکھیں مگر یہ بھی دیکھیں کہ کلائمیٹ چینج کس تیزی سے بڑھ رہا ہے، ایک درخت کو بڑا ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں، عدالت نے پی ایچ اے سے سوال کیا کہ کوئی بھی شخص پی ایچ اے سے این او سی لے کر درخت کیسے کاٹ لیتا ہے؟ کیا پی ایچ اے کا کام ہر پارک میں پیڈل کورٹ بنانا ہے؟
عدالت نے مزید کہا کہ پی ایچ اے پارکس میں ریسٹورنٹس کیسے بنا سکتا ہے جبکہ حکومتی پالیسی واضح ہے کہ درخت نہیں کاٹے جائیں گے۔
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ راتوں رات جس کا دل کرتا ہے درخت کاٹ دیتا ہے، حتیٰ کہ میو ہسپتال میں بھی درخت کاٹے گئے، لوگوں کو شاید احساس نہیں کہ ان سے پوچھ گچھ بھی ہو سکتی ہے۔
ہمیں قدرت کے ساتھ ہونیوالی دہشت گردی کو روکنا ہو گا،درخت کاٹنا صرف ماحول نہیں عام آدمی کی معیشت پر وار ہے: مصدق ملک
دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مؤقف اختیار کیا کہ اداروں کے درمیان رابطوں کا فقدان ہے جس پر عدالت نے کہا کہ درختوں کے معاملے پر بہت واضح ہدایات ہونی چاہئیں اور حکومت کی اجازت کے بغیر ایک شاخ بھی نہیں کٹنی چاہیے۔
عدالت نے کہا کہ یورپ میں لوگ گھروں میں لگے پودوں کو بھی بغیر اجازت نہیں چھیڑ سکتے، ہمیں بھی اسی طرز کے قوانین بنانے ہوں گے، درختوں کو ذبح کیا جا رہا ہے اور اسے ہر صورت روکنا ہوگا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ٹیکسالی اور شیرانوالہ کے منصوبوں پر متعلقہ حکام سے میٹنگ ہو چکی ہے، ٹیکسالی میں 45 دن اور شیرانوالہ میں 15 دن تک درختوں کے قریب کوئی نہیں جائے گا، اس پر عدالت نے سوال کیا کہ کیا اس کے بعد درخت کاٹ دیے جائیں گے؟ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ نہیں، درختوں کی منتقلی کے لیے باقاعدہ پالیسی بنائی جائے گی۔
اسرائیل نے رفح کراسنگ کھول دی
عدالت نے ریمارکس دیے کہ درختوں کی منتقلی کے حوالے سے تاحال کوئی واضح پالیسی موجود نہیں، حکومت کے پاس وسائل ہیں کہ وہ آزاد ذرائع سے مؤثر پالیسی بنوائے، اگر کسی منصوبے کے دوران درخت آ جائے تو ڈیزائن میں تبدیلی کرنا ہوگی کیونکہ بڑے اور پرانے درختوں کی جڑوں کے مسائل ہوتے ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے مختلف محکموں سے رپورٹس طلب کرتے ہوئے مزید کارروائی ملتوی کر دی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایڈووکیٹ جنرل درختوں کی پی ایچ اے درخت کاٹ عدالت نے کہ درخت میں بھی کیا کہ
پڑھیں:
ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
سری لنکا کی حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں تعینات قونصل جنرل سری لنکا سنجیوا پٹیوالا نے میڈیا سے گفتگومیں بتایا کہ سری لنکن حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی جس کے بعد سری لنکا جانے والے پاکستانیوں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے سری لنکا جانے والے ویزہ کی درخواست آن لائن دے سکتے ہیں۔
قونصل جنرل نے بتایا کہ پاکستان اور سری لنکن کے دوطرفہ تعلقات اہم ہیں، حکومت پاکستان نے 100 سری لنکن اسٹوڈنٹس کوعلامہ اقبال یونیورسٹی میں اسکالرشپ دی ہے جو ایک مثبت اقدام ہے۔
انہوں نے کاہ کہ پاکستان سری لنکا کےدرمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پرسن 2005 میں دستخط ہوئے تھے لیکن تاحال دونوں ملکوں میں ٹریڈ بیریئرز موجود ہیں۔
قونصل جنرل نے مزید کہا کہ پاکستان سری لنکا درمیان درمیان دفاعی تعلقات بھی اہم ہیں۔