آسٹریلیا گرلز کرکٹ کے ذریعے پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری کر رہا ہے WhatsAppFacebookTwitter 0 2 February, 2026 سب نیوز

آسٹریلوی ہائی کمیشن نے کنیرڈ کالج فار ویمن اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ مل کر ساتواں اے ایچ سی–کنیرڈ گرلز کرکٹ کپ منعقد کیا۔ اس ٹورنامنٹ کا مقصد کھیل کے ذریعے پاکستانی لڑکیوں کو مواقع دینا، ٹیم ورک کو فروغ دینا اور آگے بڑھنے کے راستے بنانا تھا۔

اس ٹورنامنٹ میں مختلف سماجی اور معاشی پس منظر سے تعلق رکھنے والی طالبات نے حصہ لیا۔ کرکٹ کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا گیا جس سے لڑکیوں میں خوداعتمادی بڑھی، قیادت کی صلاحیتیں نکھریں اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا جذبہ مضبوط ہوا۔ اس موقع نے آسٹریلیا اور پاکستان کے عوام کے درمیان مضبوط تعلقات کو بھی اجاگر کیا۔

پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر، ٹموتھی کین، نے کھلاڑیوں کی ہمت اور حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ لڑکیاں کھیل کے ذریعے خواتین اور لڑکیوں کے لیے موجود رکاوٹوں کو چیلنج کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا:
“کھیل ایک طاقتور ذریعہ ہے جس کے ذریعے لڑکیاں اور خواتین معاشرتی سوچ کو بدل سکتی ہیں اور برابری کی اہمیت کو اجاگر کر سکتی ہیں۔ پاکستان میں گرلز کرکٹ کی حمایت ہمارے کھیل سے مشترکہ لگاؤ اور برابری و شمولیت کے فروغ کے عزم کی عکاس ہے — نہ صرف آج بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی۔”

ہائی کمشنر نے مزید کہا:
“جہاں ہماری مردوں کی قومی ٹیمیں 2026 کے ٹی20 ورلڈ کپ سے پہلے لاہور میں کھیل رہی ہیں، آج کا دن پاکستان کی مستقبل کی خواتین چیمپئنز پر توجہ دینے کا ہے — تاکہ لڑکیاں بڑے خواب دیکھ سکیں اور اپنی برادری اور ملک کی نمائندگی کا راستہ بنا سکیں۔”

ٹورنامنٹ سے پہلے کھلاڑیوں کے لیے تین روزہ کوچنگ کلینک رکھا گیا، جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی معاونت حاصل تھی۔ اس کلینک کی قیادت پاکستان کی قومی خواتین ٹیم اور انڈر 19 ٹیم کی کھلاڑیوں نے کی، جنہوں نے لڑکیوں کی رہنمائی کی اور انہیں حوصلہ دیا۔

2016 سے اب تک، پاکستان کرکٹ بورڈ اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے آسٹریلیا کی گرلز کرکٹ کے لیے حمایت اسلام آباد سے آگے بڑھ کر لاہور اور کراچی تک پھیل چکی ہے۔ اس دوران کئی باصلاحیت کھلاڑی سامنے آئیں، جن میں سے کچھ نے بعد میں پاکستان کی انڈر 19 قومی ٹیم کی نمائندگی بھی کی۔

پاکستان ویمنز کرکٹ کی سربراہ رافعہ حیدر نے ٹورنامنٹ کے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا:
“اس طرح کے پلیٹ فارم ٹیلنٹ تلاش کرنے اور لڑکیوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔ مسلسل حمایت کے ساتھ یہ لڑکیاں پاکستان ویمنز کرکٹ کا مستقبل بن سکتی ہیں۔”

کنیرڈ کالج فار ویمن کی پرنسپل ڈاکٹر ارم انجم نے کہا:
“جب لڑکیاں کھیلتی ہیں تو وہ خوداعتماد بنتی ہیں، قیادت سیکھتی ہیں اور ایک مضبوط وابستگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم آسٹریلیا کے ساتھ مل کر ایسے مواقع پیدا کر رہے ہیں جہاں نوجوان لڑکیاں آگے بڑھ سکیں۔”

اس ٹورنامنٹ میں درج ذیل اداروں کی ٹیموں نے شرکت کی:
گورنمنٹ شہداءِ اے پی ایس میموریل گرلز ہائی اسکول، گورنمنٹ سنٹرل ماڈل اسکول، گورنمنٹ تہذیب البنات ماڈل گرلز اسکول، گورنمنٹ یاسمین اسلامیہ گرلز ہائی اسکول، مغلپورہ، اور کنیرڈ کرکٹ اکیڈمی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعلیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم پاکستان نے آسٹریلیا کو شکست دیکر7سال بعد ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کلین سوئپ کردیا پاکستان کا ٹی 20ورلڈ کپ میں شرکت کرنے، بھارت کیخلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی تاریخ کا انوکھا کارنامہ، پہلی بار تمام 10 وکٹیں اسپنرز کے نام پاکستان نے دوسرے ٹی 20 میں آسٹریلیا کو 90 رنز سے ہرا دیا، سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کا فیصلہ پیر کو متوقع، پاکستان ٹیم کی کٹ کی رونمائی ملتوی پہلا ٹی 20: پاکستان نے آسٹریلیا کو 22 رنز سے شکست دیدی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: گرلز کرکٹ کے ذریعے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو