روسی صدارتی ترجمان کیمطابق، روس نے موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کیلئے ایران کے اضافی افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنیکی تجویز پیش کی ہے اسلام ٹائمز۔ روس کے صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے تاکید کی ہے کہ ماسکو، تہران کے گرد تناؤ کو کم کرنے میں مدد کو تیار ہے جبکہ روس نے ایران کے اضافی افزودہ یورینیم کو ایک ممکنہ آپشن کے طور پر، ملک سے باہر لے جانے کے لئے اپنی خدمات پیش کی ہیں، اور اس سے متعدد ممالک کے خدشات کو دور کیا جا سکتا ہے۔ دیمتری پیسکوف نے مزید کہا کہ روس ایران کے بارے موجودہ صورتحال کے حوالے سے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسمعیل بقائی نے بھی ایران کے افزودہ یورینیم اور اس حوالے سے بعض میڈیا رپورٹس کے بارے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ افزودہ مواد، ان مسائل میں سے ایک ہے کہ جن کا تعین مذاکرات میں کیا جائے گا۔ اسمعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ہم مذاکرات کے انعقاد سے قبل ان کے نتائج کا اعلان نہیں کریں گے۔ ترکی میں ایران و امریکہ کے درمیان مذاکرات کے بارے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ اس مرحلے پر، ہم اس سفارتی عمل کو آگے بڑھانے سے متعلق کچھ تفصیلات کا جائزہ لے رہے ہیں.

. آپ نے علاقائی و ہمسایہ ممالک سے مختلف و مسلسل رابطوں کا مشاہدہ کیا ہے.. ہم فیصلہ سازی کے مرحلے میں ہیں اور اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں و زاویوں پر غور کر رہے ہیں!

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: افزودہ یورینیم ایران کے

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی