ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کردیا گیا، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
وفاقی حکومت نے یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل دینے کا اعلان کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ملک بھر میں 5 فروری کو عام تعطیل کو اعلان کابینہ ڈویژن نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا pic.twitter.com/Z3ndcfQ37f
— ch sajjad Haider (@chsajjad844) February 2, 2026
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کشمیری شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ 5 فروری 2026 کو یومِ کشمیر کے سلسلے میں پورے ملک میں عام تعطیل ہوگی۔
یومِ کشمیر ہر سال پاکستان میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے۔
اس موقع پر ملک کے مختلف حصوں میں خصوصی تقریبات، سیمینارز، ریلیاں اور دعائیہ محافل کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن کا مقصد کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے حمایت کا اعادہ کرنا ہوتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews عام تعطیل نوٹیفکیشن جاری وفاقی حکومت وی نیوز یوم یکجہتی کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عام تعطیل نوٹیفکیشن جاری وفاقی حکومت وی نیوز یوم یکجہتی کشمیر عام تعطیل
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔