علی رضا سید نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے لمبے عرصے سے رابطہ اور تعاون رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین کشمیر کونسل یورپی یونین علی رضا سید نے کہا ہے کہ صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی وفات سے کشمیری اپنے ایک مضبوط وکیل سے محروم ہو گئے۔ علی رضا سید نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے لمبے عرصے سے رابطہ اور تعاون رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کے حقوق کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ہمیشہ متحرک رہے اور خاص طور پر طویل مدت تک مسئلہ کشمیر کو یورپی یونین اور برطانیہ کے اہم حلقوں میں اٹھایا۔ علی رضا سید نے کہا کہ بیریسٹر سلطان محمود چوہدری نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے اقوامِ عالم بشمول یورپی یونین کو آگاہ کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ چیئرمین کشمیر کونسل یورپی یونین نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بیریسٹر سلطان محمود چوہدری کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اُنہوں نے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی آزاد کشمیر میں گراں قدر سیاسی و سماجی خدمات پر بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ علی رضا سید ہفتے کے روز سلطان چوہدری کی وفات کی خبر سنتے ہی میر پور میں ان کے گھر تشریف لے گئے تھے جہاں انہوں نے مرحوم کے بیٹے اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ میں افسوس اور دکھ کی اس گھڑی میں سوگوار خاندان کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔ چیئرمین کشمیر کونسل یورپی یونین نے دعا کی کہ ربِ کریم سلطان محمود چوہدری کے درجات بلند فرمائے اور سوگوار خاندان کو اس ناقابلِ تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطاء فرمائے، آمین۔ دریں اثناء، علی رضا سید نے یکم اور 2 فروری کو میرپور میں منعقد ہونے والی یورپی فوٹو جرنلسٹ کی کتاب "کشمیر ویٹ اینڈ سی" کی نمائش کو بھی صدر آزاد کشمیر سلطان محمود چوہدری کی وفات کے سوگ میں ملتوی کر دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سلطان محمود چوہدری کی علی رضا سید نے یورپی یونین مسئلہ کشمیر کہا ہے کہ کشمیر کو نے کہا

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے