بیرسٹر سلطان چوہدری کی وفات سے کشمیری مضبوط وکیل سے محروم ہو گئے، علی رضا سید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
علی رضا سید نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے لمبے عرصے سے رابطہ اور تعاون رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین کشمیر کونسل یورپی یونین علی رضا سید نے کہا ہے کہ صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی وفات سے کشمیری اپنے ایک مضبوط وکیل سے محروم ہو گئے۔ علی رضا سید نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے لمبے عرصے سے رابطہ اور تعاون رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کے حقوق کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ہمیشہ متحرک رہے اور خاص طور پر طویل مدت تک مسئلہ کشمیر کو یورپی یونین اور برطانیہ کے اہم حلقوں میں اٹھایا۔ علی رضا سید نے کہا کہ بیریسٹر سلطان محمود چوہدری نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے اقوامِ عالم بشمول یورپی یونین کو آگاہ کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ چیئرمین کشمیر کونسل یورپی یونین نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بیریسٹر سلطان محمود چوہدری کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اُنہوں نے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی آزاد کشمیر میں گراں قدر سیاسی و سماجی خدمات پر بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ علی رضا سید ہفتے کے روز سلطان چوہدری کی وفات کی خبر سنتے ہی میر پور میں ان کے گھر تشریف لے گئے تھے جہاں انہوں نے مرحوم کے بیٹے اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ میں افسوس اور دکھ کی اس گھڑی میں سوگوار خاندان کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔ چیئرمین کشمیر کونسل یورپی یونین نے دعا کی کہ ربِ کریم سلطان محمود چوہدری کے درجات بلند فرمائے اور سوگوار خاندان کو اس ناقابلِ تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطاء فرمائے، آمین۔ دریں اثناء، علی رضا سید نے یکم اور 2 فروری کو میرپور میں منعقد ہونے والی یورپی فوٹو جرنلسٹ کی کتاب "کشمیر ویٹ اینڈ سی" کی نمائش کو بھی صدر آزاد کشمیر سلطان محمود چوہدری کی وفات کے سوگ میں ملتوی کر دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سلطان محمود چوہدری کی علی رضا سید نے یورپی یونین مسئلہ کشمیر کہا ہے کہ کشمیر کو نے کہا
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔