بیرسٹر سلطان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی ضمیر کے سامنے اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا، ریحانہ خان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی وفات سے آزاد کشمیر ایک مدبر رہنما سے محروم ہو گیا ہے اور یہ سانحہ پوری کشمیری قوم کے لیے گہرے دکھ کا باعث ہے۔ اسلام ٹائمز۔ محترمہ ریحانہ خان چیئرپرسن وویمن کمیشن آزاد کشمیر نے صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی وفات پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی وفات سے آزاد کشمیر ایک مدبر رہنما سے محروم ہو گیا ہے اور یہ سانحہ پوری کشمیری قوم کے لیے گہرے دکھ کا باعث ہے۔ مرحوم دور اندیش سیاستدان اور سینئر قانون دان تھے جنہوں نے مسئلہ کشمیر کو عالمی ضمیر کے سامنے اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے مسلسل اور مؤثر جدوجہد کی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی آواز بنے۔ انھوں نے کہا بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے آزاد کشمیر میں آئینی و جمہوری نظام کے استحکام، اداروں کی مضبوطی اور عوامی مفاد کے امور میں قابلِ قدر خدمات سرانجام دیں، جو طویل عرصے تک یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے مرحوم کی قومی، سیاسی اور سفارتی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی جدوجہد، بصیرت اور قیادت نئی نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنی رہے گی۔ محترمہ ریحانہ خان نے مرحوم کے لیے مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر و حوصلے کی دعا بھی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔