بیرسٹر سلطان محمود چودھر ی آبائی گاؤں کھڑی شریف میں سپرد خاک
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260202-08-12
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو ان کے آبائی گاؤں کھڑی شریف میرپورمیں سپرد خاک کردیا گیا‘آزادریاست جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چودہری 71 سال کی عمر میں کینسرجیسے موذی مرض سے لڑتے لڑتے بالآخر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 25 اگست 2021 کو آزاد جموں و کشمیر کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان کا تعلق میرپور آزاد کشمیر سے تھا۔ انہوں نے قانون کی اعلیٰ تعلیم برطانیہ سے حاصل کی۔بیرسٹر سلطان محمود نے عملی سیاست کا آغاز 1983 میں کیا اور 1985 میں پہلی بار آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے،وہ 9 مرتبہ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جو آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں نمایاں اعزاز ہے۔انہوں نے 30 جولائی 1996 سے 24 جولائی 2001 تک آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے انتظامی اصلاحات کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔بیرسٹر سلطان محمود مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے آزادمسلم کانفرنس کے نام سے سیاسی جماعت قائم کی جس کے بعدوہ پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیرمیں شامل ہوئے اور اس کے پارٹی صدراور وزیراعظم رہے۔مرحوم نے اقوام متحدہ، یورپی پارلیمنٹ، امریکa اور برطانیہ سمیت عالمی فورمز پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے موثر آواز بلند کی اور بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔
میرپور: سابق صدرآزاد جموں وکشمیر سلطان محمود چودھری کے جسد خاکی کو فوجی اعزاز گن کیرج کے ساتھ جنازہ گاہ لایا جارہا ہے،چھوٹی تصویر میں نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جموں و کشمیر کے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ