پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت سے متعلق بیانات ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔

گزشتہ دنوں عمران خان کو آنکھ کی تکلیف کے باعث اسلام آباد کے پمز اسپتال منتقل کیا گیا، جس پر حکومت کی جانب سے واضح مؤقف سامنے آ چکا تھا، تاہم اس کے باوجود پی ٹی آئی نے معاملے کو سیاسی رنگ دیا۔

اس صورتحال میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ عمران خان کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے اور ان کی صحت سے متعلق خدشات کو پارٹی کے اصل سیاسی مقاصد سے توجہ ہٹانے کے لیے بطور پروپیگنڈا استعمال کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان قوم کے لیڈر، وفاقی وزرا کا رویہ عوام کو اشتعال دلانے کے مترادف ہے، سہیل آفریدی

اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی عمران خان کی بیماری کو کب تک سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کرتی رہے گی اور اس حکمتِ عملی سے پارٹی کو کیا فائدہ حاصل ہو رہا ہے؟

سیاسی تجزیہ کار احمد ولید کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کا معاملہ پاکستان تحریکِ انصاف کے لیے طویل سیاسی بیانیہ بنانے کے قابل نہیں ہے۔

ان کے بقول عمران خان کا جو معمولی ٹریٹمنٹ ہونا تھا، وہ مکمل ہو چکا ہے، اور اب جب ان کی فیملی سے ملاقات ہو جائے گی، تو اگر ضرورت پڑی تو جیل انتظامیہ اور ڈاکٹرز ہی اضافی چیک اپ کی سفارش کر دیں گے۔

احمد ولید نے وضاحت کی کہ اگر بظاہر صورتحال تھوڑی پیچیدہ بھی ہو جائے تو فیملی خود کہہ سکتی ہے کہ علاج ہم خود کروائیں گے، لیکن موجودہ صورتِ حال میں حکومت نے خان صاحب کا علاج مکمل اور مناسب انداز میں کروایا ہے۔

’ایسا کوئی خطرہ حکومت مول نہیں لے سکتی تھی کہ علاج ادھورا چھوڑ دیا جائے، کیونکہ اس کی ساری ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔‘

اس تناظر میں احمد ولید سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی عمران خان کی بیماری کو زیادہ عرصے تک سیاسی بیانیہ بنانے یا عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے کیش نہیں کر سکتی، کیونکہ علاج کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور مزید اقدامات صرف معمول کے چیک اپ کے تحت ہوں گے۔

سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے علاج کے انتظامات سنجیدگی سے کیے ہیں، اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صحت کے معاملے کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔

تاہم، انہوں نے نشاندہی کی کہ علاج کے حوالے سے معلومات کے بہاؤ میں جو کنفیوژن پیدا ہوئی، اس سے حکومت کے میڈیا مینیجمنٹ کے شعبے کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

ماجد نظامی کے مطابق اس صورتحال سے یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ حکومت خود فیصلے کرنے کی مکمل پوزیشن میں نہیں ہے بلکہ اس کے اقدامات ہدایات یا رہنمائی کے انتظار پر منحصر ہوتے ہیں۔

’یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اس معاملے سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی اور ہو بھی رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے رہنما اپنے خدشات کو بار بار پریس کانفرنسز کے ذریعے عوام کے سامنے لاتے رہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی اس مسئلے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے اور حکومت خود اس معاملے میں بدنام نہ ہو، تو ضروری ہے کہ علاج کے عمل میں مکمل شفافیت برتی جائے۔

’خاص طور پر عمران خان کے اہل خانہ کو اعتماد میں لینا لازمی ہے تاکہ تمام فریقین کی تسلی ہو اور کسی قسم کی سیاسی کشیدگی پیدا نہ ہو۔‘

سیاسی تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا کہ حکومت کی ابتدائی مس ہینڈلنگ واضح طور پر دیکھی گئی، تاہم اب حالیہ بیانات خصوصاً محمود خان اچکزئی کا مؤقف 8 فروری کے احتجاج سے توجہ ہٹانے کی کوشش کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

منیب فاروق کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف کا ایک مضبوط سیاسی بیانیہ عمران خان کی صحت کے گرد تعمیر کیا گیا تھا، جس کا مقصد پارٹی کے ووٹرز اور سپورٹرز کو متحرک کر کے 8 فروری کو احتجاجی مظاہروں کی طرف راغب کرنا تھا۔

’لیکن محمود خان اچکزئی کے بیانات نے اس بیانیے کی بنیاد ہی ہلا دی، جس سے پارٹی قیادت نالاں اور غصے میں ہے۔‘

منیب فاروق کے مطابق، اسی حوالے سے سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ ’طبی دہشتگردی‘ ہوئی، یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے بیانیے کے اہم ستون متاثر ہوئے ہیں، تحریک انصاف میں گروپنگ پیدا ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے، جو کہ ماضی میں بھی ہوتا آیا ہے۔

منیب فاروق نے مزید واضح کیا کہ تحریک انصاف کے اندر ہر شخص کا موقف الگ ہو سکتا ہے اور مختلف رہنماؤں کے اختلافات پارٹی کے سیاسی عمل پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

’۔۔خاص طور پر ایسے حساس معاملات میں جب پارٹی کا بنیادی بیانیہ کمزور پڑ رہا ہو۔‘

واضح رہے کہ اس بیان کے بعد محمود خان اچکزئی کو پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی نفرت انگیز مہم کا سامنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آنکھ احمد ولید بیانیہ تحریک انصاف دہشتگردی سیاسی ہتھیار عمران خان ماجد نظامی محمود خان اچکزئی منیب فاروق میڈیا مینیجمنٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آنکھ احمد ولید بیانیہ تحریک انصاف دہشتگردی سیاسی ہتھیار محمود خان اچکزئی منیب فاروق میڈیا مینیجمنٹ محمود خان اچکزئی عمران خان کی صحت پاکستان تحریک تحریک انصاف منیب فاروق احمد ولید پی ٹی آئی کے مطابق پارٹی کے کہ علاج کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 

مظفر آباد (نوائے وقت رپورٹ) آئی پی پی نے مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ سے اتحاد کر لیا اور آزاد کشمیر میں مشترکہ طور پر انتخابات لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ آئی پی پی رہنما عون چودھری نے کہا ہے کہ کشمیر کے تحفظ و ترقی کیلئے اتحاد ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا