محمود خان اچکزئی کا عمران خان کی صحت پر دوٹوک مؤقف، پی ٹی آئی کے بیانیے پر سوالات
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت سے متعلق بیانات ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔
گزشتہ دنوں عمران خان کو آنکھ کی تکلیف کے باعث اسلام آباد کے پمز اسپتال منتقل کیا گیا، جس پر حکومت کی جانب سے واضح مؤقف سامنے آ چکا تھا، تاہم اس کے باوجود پی ٹی آئی نے معاملے کو سیاسی رنگ دیا۔
اس صورتحال میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ عمران خان کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے اور ان کی صحت سے متعلق خدشات کو پارٹی کے اصل سیاسی مقاصد سے توجہ ہٹانے کے لیے بطور پروپیگنڈا استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان قوم کے لیڈر، وفاقی وزرا کا رویہ عوام کو اشتعال دلانے کے مترادف ہے، سہیل آفریدی
اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی عمران خان کی بیماری کو کب تک سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کرتی رہے گی اور اس حکمتِ عملی سے پارٹی کو کیا فائدہ حاصل ہو رہا ہے؟
سیاسی تجزیہ کار احمد ولید کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کا معاملہ پاکستان تحریکِ انصاف کے لیے طویل سیاسی بیانیہ بنانے کے قابل نہیں ہے۔
ان کے بقول عمران خان کا جو معمولی ٹریٹمنٹ ہونا تھا، وہ مکمل ہو چکا ہے، اور اب جب ان کی فیملی سے ملاقات ہو جائے گی، تو اگر ضرورت پڑی تو جیل انتظامیہ اور ڈاکٹرز ہی اضافی چیک اپ کی سفارش کر دیں گے۔
احمد ولید نے وضاحت کی کہ اگر بظاہر صورتحال تھوڑی پیچیدہ بھی ہو جائے تو فیملی خود کہہ سکتی ہے کہ علاج ہم خود کروائیں گے، لیکن موجودہ صورتِ حال میں حکومت نے خان صاحب کا علاج مکمل اور مناسب انداز میں کروایا ہے۔
’ایسا کوئی خطرہ حکومت مول نہیں لے سکتی تھی کہ علاج ادھورا چھوڑ دیا جائے، کیونکہ اس کی ساری ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔‘
اس تناظر میں احمد ولید سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی عمران خان کی بیماری کو زیادہ عرصے تک سیاسی بیانیہ بنانے یا عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے کیش نہیں کر سکتی، کیونکہ علاج کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور مزید اقدامات صرف معمول کے چیک اپ کے تحت ہوں گے۔
سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے علاج کے انتظامات سنجیدگی سے کیے ہیں، اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صحت کے معاملے کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
تاہم، انہوں نے نشاندہی کی کہ علاج کے حوالے سے معلومات کے بہاؤ میں جو کنفیوژن پیدا ہوئی، اس سے حکومت کے میڈیا مینیجمنٹ کے شعبے کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
ماجد نظامی کے مطابق اس صورتحال سے یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ حکومت خود فیصلے کرنے کی مکمل پوزیشن میں نہیں ہے بلکہ اس کے اقدامات ہدایات یا رہنمائی کے انتظار پر منحصر ہوتے ہیں۔
’یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اس معاملے سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی اور ہو بھی رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے رہنما اپنے خدشات کو بار بار پریس کانفرنسز کے ذریعے عوام کے سامنے لاتے رہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی اس مسئلے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے اور حکومت خود اس معاملے میں بدنام نہ ہو، تو ضروری ہے کہ علاج کے عمل میں مکمل شفافیت برتی جائے۔
’خاص طور پر عمران خان کے اہل خانہ کو اعتماد میں لینا لازمی ہے تاکہ تمام فریقین کی تسلی ہو اور کسی قسم کی سیاسی کشیدگی پیدا نہ ہو۔‘
سیاسی تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا کہ حکومت کی ابتدائی مس ہینڈلنگ واضح طور پر دیکھی گئی، تاہم اب حالیہ بیانات خصوصاً محمود خان اچکزئی کا مؤقف 8 فروری کے احتجاج سے توجہ ہٹانے کی کوشش کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
منیب فاروق کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف کا ایک مضبوط سیاسی بیانیہ عمران خان کی صحت کے گرد تعمیر کیا گیا تھا، جس کا مقصد پارٹی کے ووٹرز اور سپورٹرز کو متحرک کر کے 8 فروری کو احتجاجی مظاہروں کی طرف راغب کرنا تھا۔
’لیکن محمود خان اچکزئی کے بیانات نے اس بیانیے کی بنیاد ہی ہلا دی، جس سے پارٹی قیادت نالاں اور غصے میں ہے۔‘
منیب فاروق کے مطابق، اسی حوالے سے سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ ’طبی دہشتگردی‘ ہوئی، یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے بیانیے کے اہم ستون متاثر ہوئے ہیں، تحریک انصاف میں گروپنگ پیدا ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے، جو کہ ماضی میں بھی ہوتا آیا ہے۔
منیب فاروق نے مزید واضح کیا کہ تحریک انصاف کے اندر ہر شخص کا موقف الگ ہو سکتا ہے اور مختلف رہنماؤں کے اختلافات پارٹی کے سیاسی عمل پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
’۔۔خاص طور پر ایسے حساس معاملات میں جب پارٹی کا بنیادی بیانیہ کمزور پڑ رہا ہو۔‘
واضح رہے کہ اس بیان کے بعد محمود خان اچکزئی کو پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی نفرت انگیز مہم کا سامنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آنکھ احمد ولید بیانیہ تحریک انصاف دہشتگردی سیاسی ہتھیار عمران خان ماجد نظامی محمود خان اچکزئی منیب فاروق میڈیا مینیجمنٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آنکھ احمد ولید بیانیہ تحریک انصاف دہشتگردی سیاسی ہتھیار محمود خان اچکزئی منیب فاروق میڈیا مینیجمنٹ محمود خان اچکزئی عمران خان کی صحت پاکستان تحریک تحریک انصاف منیب فاروق احمد ولید پی ٹی آئی کے مطابق پارٹی کے کہ علاج کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :