متنازع مطالبات کے ذمے دار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
کراچی سے تعلق رکھنے والے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی کے مسائل کا حل صوبائی کنٹرول ہے نہ وفاقی۔ کراچی کے مسائل کا حل آئین کے تحت بااختیار کراچی سٹی حکومت کا قیام ہی واحد حل ہے۔
بلاول بھٹو دنیا بھر میں گھومتے ہیں انھیں استنبول ترکیہ کے بلدیاتی نظام کا بھی پتا ہے جہاں ماسٹر پلان، فائر بریگیڈ، تعمیرات، تعلیم، ٹرانسپورٹ، پانی، سیوریج، فلڈ پلانٹس، روزگار، قرضے جاری کرنا اور عوام کی فلاح و بہبود کے کام وہاں کی سٹی حکومت کا اختیار ہے۔ بلاول بھٹو اپنی 17 سال سے برقرار حکومت کے ذریعے کراچی میں بھی آئین کے تحت بااختیار سٹی حکومت قائم کرائیں تاکہ مسائل حل ہو سکیں۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کا کہنا ہے کہ کراچی کو کسی صورت سندھ سے الگ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پی پی پنجاب کے رہنما تنویر اشرف کائرہ کے مطابق کراچی کو فوج کے حوالے کرنا کوئی حل نہیں۔ جی ڈی اے کی کور کمیٹی نے سندھ میں امن و امان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار مگر سندھ کے وسائل، زمین اور اختیارات پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کراچی کو وفاق کے اور تاجر کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کے مطالبات کر چکے ہیں اور دیگر جماعتیں سانحہ گل پلازہ کا ذمے دار سندھ حکومت، وزیر اعلیٰ اور میئر کراچی کو قرار دے کر ان سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سندھ اسمبلی کا ایوان ایم کیو ایم ارکان کے احتجاجی نعروں سے گونجتا رہا اور ان کا مطالبہ تھا کہ سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔ سندھ کابینہ کی کمیٹی ناکافی ہے کیونکہ یہ حکومتی کمیٹی درست تحقیقات کبھی نہیں کرے گی۔ سندھ کے حکومتی ارکان کا موقف ہے اگر حکومت نے عدالتی کمیشن کی ضرورت محسوس کی تو بنا دیا جائے گا اور حکومتی کمیٹی کو کام کرنے دیا جائے۔
کراچی شہر میں کراچی کو وفاق یا فوج کے حوالے کرنے کے بینرز لگائے گئے ہیں اور وال چاکنگ کی گئی ہے، جس کے پیپلز پارٹی سخت خلاف ہے اور کے ایم سی کے لوگ یہ بینرز اتارتے ہوئے بعض علاقوں میں پکڑے بھی گئے ہیں۔ یہ بینرز اور وال چاکنگ کراچی کے شہریوں کے نام سے ہوئی ہے جس کا ذمے دار پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کو قرار دے رہی ہے۔
سینئر وزیر شرجیل میمن نے جماعت اسلامی پر کراچی کے معاملات پر منفی سیاست کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ایم کیو ایم جو سندھ اسمبلی میں اپوزیشن ہے، نے سانحہ گل پلازہ پر متاثرین کے لیے بھرپور آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ سندھ کی کابینہ نے سانحہ گل پلازہ کے جاں بحق افراد کے ورثا کو فی کس ایک کروڑ روپے دینے اور دو ماہ میں متبادل جگہ متاثرین کو دینے کے علاوہ ہر دکاندار کو ایک کروڑ روپے بغیر سود قرض دینے اور پانچ لاکھ روپے معاشی امداد کے طور پر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
سندھ میں پہلے نئے صوبے بنانے کے بعض مطالبات کے بعد کراچی کو وفاق یا فوج کے حوالے کرنے کے مطالبوں پر سندھ میں سخت رد عمل سامنے آیا ہے جس سے ایک بار پھر کشیدگی بڑھی ہے۔ کراچی کے سلسلے میں کوئی اور بڑی سیاسی پارٹی ان مطالبات کی حمایت نہیں کر رہی۔ پی ٹی آئی نے سانحہ گل پلازہ پر پہلے بیانات دیے تھے جس کے بعد سے اس کا کوئی کردار سامنے نہیں آیا جب کہ اس کے کراچی سے ارکان اسمبلی اور بلدیاتی اداروں کے چیئرمین بھی ہیں مگر پی ٹی آئی کراچی کے حالات کو ترجیح دینے کی بجائے 8 فروری کے احتجاج اور اپنے بانی کی رہائی پر توجہ دیے ہوئے ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ کراچی کے لیے ہونے والے مطالبات متفقہ نہیں متنازعہ ہو چکے ہیں۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کی 17 سالوں اور پہلی بار ملنے والی میئر شپ کو تین سال ہو رہے ہیں مگر کراچی کی بعض سیاسی جماعتیں، تاجر اور عوامی حلقے سانحہ گل پلازہ کا ذمے دار سندھ حکومت اور خاص کر میئر کراچی کو سمجھتے ہیں کیونکہ پی پی کی سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مسائل حل کرنے میں پہلے ہی ناکام تھے کہ سانحہ گل پلازہ نے معاملات مزید خراب کر دیے ہیں اور سندھ حکومت پر ملک بھر میں کڑی تنقید ہوئی ہے مگر سندھ حکومت کے ذمے دار اس سلسلے میں خود بھی جوابی بیان بازی کر رہے ہیں اور اپنے مخالفین پر سیاست کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔کراچی کو الگ صوبہ بنانے، وفاق یا فوج کے حوالے کرنے کے متنازعہ مطالبات کے ذمے دار کراچی سے تعلق نہ رکھنے والے صوبائی حکمران اور 17 سال سے ان کی حکومت ہے۔
میئر کراچی کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ اپنے شہر کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر سندھ حکومت ان کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے جس نے خود کراچی کو ترجیح دی اور نہ ہی اپنے میئر کو ضروری اختیارات اور کراچی کو فنڈز دیے جس کی وجہ سے کراچی مختلف مسائل کا گڑھ اور ناقابل رہائش شہر بنا ہوا ہے۔ کراچی کو بلاشبہ وفاق اور خاص طور پر سندھ حکومت نے نظرانداز کر رکھا ہے اور کراچی سے ہونے والی آمدنی کراچی پر خرچ نہیں کی جا رہی۔
سندھ کے کسی وزیر اعلیٰ کا تعلق کراچی سے نہیں رہا ہے جب کہ پی پی چیئرمین بلاول بھٹو کراچی میں ضرور پیدا ہوئے مگر افسوس کہ انھوں نے بھی کراچی کو اپنا نہیں سمجھا کیونکہ یہاں پی پی کا ووٹ بینک کم ہے جس کی وجہ سے پی پی کی کسی حکومت نے کراچی کو اون کیا اور نہ عملی طور پر اپنا سمجھا۔ اگر پی پی حکومت 17 سالوں میں کراچی کو اپنا سمجھ کر اس پر توجہ دیتی جو اس کی کمائی کا گڑھ ہے تو کراچی تباہی کا شکار ہوتا نہ کراچی سے علیحدہ صوبے، وفاق یا فوج کے حوالے کرنے کے متنازعہ مطالبات ہوتے۔ اب بھی بہتر ہوگا کہ سندھ حکومت کراچی کو بھی اپنا سمجھ لے اور کراچی پر خصوصی توجہ دے دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاق یا فوج کے حوالے کرنے کے سانحہ گل پلازہ ایم کیو ایم سندھ حکومت کراچی سے کراچی کے کراچی کو رہے ہیں ہیں اور
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔