145 دہشت گردوں کی لاشیں ہمارے پاس موجود ہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ 145 دہشت گردوں کی لاشیں ہمارے پاس موجود ہیں، گوادر میں دہشت گردوں نے پانچ خواتین اور تین بچوں کو شہید کیا، یہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
کوئٹہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان کو امن کی طرف لے کر جائیں گے، ہمارے پاس دہشت گرد حملے کی انٹیلی جنس رپورٹ موجود تھی، ہم نے ایک دن پہلے آپریشن شروع کردیا تھا۔
انہوں نے کہا ہے کہ جب پاکستان ٹیک آف کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بی ایل اے کوئی رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے جس سے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، آپ ہندوستان کی ایما پر ایسے واقعات کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک سیکنڈ کیلئے بھی سرینڈر کرنے کیلئے تیار نہیں، ہمارا خون سستا نہیں ہے، ہم انہیں جانے نہیں دیں گے، ہم اس جگہ کو ان کے لئے جہنم بنادیں گے، ہم انہیں اس طرح جانے نہیں دیں گے۔
آپریشن کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ نوشکی اب مکمل طور پر کلیئر ہوچکا ہے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں طاقت کا استعمال تو کبھی ہوا ہی نہیں، یہ چھوٹے آپریشن ہیں جو کئےجاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ