ٹرمپ کا ایران کو خبردار کرنے والا پیغام، تہران نے مذاکرات میں پیشرفت کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اگر ہم سے بات کرے تو دیکھیں گے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی مذاکرات ناکام ہونے پر ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنا پڑا تھا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ماضی میں ایران کے مسئلے کو مختلف طریقوں سے نمٹایا گیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں کیا نتائج نکلتے ہیں۔
مزید پڑھیںامریکا کی آبنائے ہرمز میں جنگی مشقیں؛ ایران کے بندرگاہی شہر میں خوفناک دھماکا؛ ہلاکتیں
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ خلیجی ممالک کو امریکی منصوبوں کے بارے میں پہلے اطلاع دینا ممکن نہیں ہے۔
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے اور مذاکرات کی بنیاد بنانے کے سلسلے میں اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ من گھڑت میڈیا وار کے ماحول کے باوجود مذاکرات میں حقیقی پیشرفت ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔