پابندیاں اٹھائی جائیں، بدلے میں جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کے لیے تیار ہیں: عراقچی
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایک ایسے معاہدے کو اپنانے کے لیے تیار ہے جو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی عدم موجودگی کی ضمانت دے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے دوران، ایران نے ایک بار پھر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی کا اعادہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایک ایسے معاہدے کو اپنانے کے لیے تیار ہے جو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی عدم موجودگی کی ضمانت دے اور (ایران پر عائد) پابندیاں ختم کرے۔ اس کے علاوہ انہوں نے آج ہفتے کے روز ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ ان کا ملک سکیورٹی اور استحکام کے تحفظ کے لیے خطے کے ممالک کے ساتھ رابطے کے لیے تیار ہے۔
گذشتہ روز جمعے کو استنبول کا دورہ کرنے والے عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ تہران خطے میں امن و استحکام کے لیے ترکیہ کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔
ایرانی وزیر کا یہ بھی خیال تھا کہ فی الحال امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئی سنجیدہ بنیاد موجود نہیں ہے۔ انہوں نے “سی این این ترک” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ تہران مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے کسی بھی حقیقی مذاکرات سے پہلے دھمکیوں اور دباؤ کی فضا کو ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اسی طرح انہوں نے اپنے ترک ہم منصب حاقان فیدان کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ ایران امریکہ کے ساتھ برابری کی بنیاد پر جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، اس شرط کے ساتھ کہ مذاکرات منصفانہ ہوں۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ان کے ملک کی دفاعی اور میزائل صلاحیتیں ناقابلِ بحث ہیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں غیر معمولی تناؤ پایا جاتا ہے، جبکہ ترکیہ دیگر عرب ممالک کے ساتھ مل کر صورت حال کو پُر امن بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ روز جمعہ کی شام دیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے بارہا فوجی آپشن کی دھمکی دینے کے بعد کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کو مذاکرات کے لیے مہلت دی ہے۔ البتہ امریکی صدر نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ یہ منظر نامہ کسی حد تک گذشتہ برس کے موسم گرما میں ایران کی جوہری تنصیبات پر ہونے والے امریکی حملوں سے قبل کی صورت حال سے مشابہت رکھتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے تیار ہے انہوں نے کے ساتھ
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘