جنگ میں شکست پر بھارت کو سخت تکلیف ہے: وزیر اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
ویب ڈیسک : وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی جانب سے بزدلانہ حملہ کیا گیا، جنگ میں شکست پر بھارت کو سخت تکلیف ہے۔
ان خیالات کا اظہار عطا تارڑ نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا، کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور انہیں پسپا کیا، وزیراعظم بلوچستان کی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کے خلاف تاریخی کامیابی حاصل کی، جنگ میں شکست پر بھارت کو سخت تکلیف ہے۔
چور شادی پر جانے والی فیملی کے گھر کا صفایا کر گئے
عطا تارڑ نے کہا کہ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی جانب سے بزدلانہ حملہ کیا گیا، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو شکست دی، سلامتی کے ادارے پراکسیز کا خاتمہ کر کے دم لیں گے، اُن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت بےعقل موج کے اندر مبتلا ہے، ان کو بالکل احساس نہیں کہ انہوں نے صحت، تعلیم، انفرااسٹرکچر پر توجہ دینی ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ترجمان ٹی وی پر بیٹھ کر زبان درازی کرتے ہیں، عوام خیبر پختونخوا حکومت کو اربوں روپے دیتی ہے، تیراہ کے لوگوں پر فتنہ الخوارج حملہ آور ہوں تو پاک فوج مقابلہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کام صرف احتجاج اور اڈیالہ کے باہر بیٹھنا ہے، بانی پی ٹی آئی کی رضا مندی سے ان کا طبی علاج کیا گیا، انہیں معمولی سے علاج کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔
آزاد کشمیر کے طلبا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جدوجہد آزادی کو مشترکہ ذمہ داری قرار دے دیا
وفاقی وزیر نے کہا کہ جب تیراہ کے لوگوں پر دہشت گردوں کا حملہ ہوا تو افواج پاکستان نے مدد کی، جب بھی کے پی کے لوگوں کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے تو صوبائی حکومت غائب ہو جاتی ہے، گورنر راج سے متعلق بات کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ گورنر راج اس وقت لگتا ہے جب حکومت ناکام ہو جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ باڑہ کا سیاسی اتحاد کہہ رہا ہے کہ بے انتظامی اور بدعنوانی ہوئی ہے، خیبر پختونخوا حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، گورنر راج تب لگتا ہے جب حکومت مکمل طور پر ناکام ہو جائے۔
بسنت:پولیس کی تیاری مکمل،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی ہو گی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا نے کہا کہ عطا تارڑ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔