بھارت کو شکست ہضم نہیں ہو رہی، سیکیورٹی ایجنسیاں پراکسیز کا خاتمہ کریں گی، عطا اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
لاہور:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کے خلاف حاصل کی گئی کامیابی نے بھارت کو شدید تکلیف میں مبتلا کر دیا ہے، اسی لیے وہ پراکسیز کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم سیکیورٹی ایجنسیاں ان عناصر کا مکمل خاتمہ کرکے ہی دم لیں گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ کل بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی جانب سے بزدلانہ حملہ کیا گیا، جسے سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا، وہ پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی پیشہ ورانہ کارروائی کے باعث اسی سے زائد دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا اور بلوچستان ایک بڑے نقصان سے بچ گیا۔
عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ دہشت گرد بارہ مختلف شہروں میں حملوں کی نیت سے داخل ہوئے تھے، سیکیورٹی فورسز نے بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے انہیں شکست دی، بھارتی میڈیا پر بیٹھ کر بلوچستان کا ذکر کیا جا رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت براہِ راست ان سازشوں میں ملوث ہے،وزیراعظم شہباز شریف صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رہے اور ریاستی اداروں نے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کارروائیاں کیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب بھارت کو ماضی میں منہ کی کھانی پڑی تو وہ دم دبا کر بھاگ گیا اور آج بھی وہ اپنی شکست کا بدلہ پراکسیز کے ذریعے لینے کی کوشش کر رہا ہے، جو کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔
کے پی کے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے ترجمان ٹی وی پروگرامز میں بیٹھ کر زبان درازی کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ پنجاب سے سیکھیں، شہباز شریف کے دورِ وزارتِ اعلیٰ میں پنجاب میں بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے اور موجودہ وزیراعلیٰ بھی صوبے میں نمایاں کام کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قوم خیبرپختونخوا حکومت کو اربوں روپے دیتی ہے لیکن وہاں اب تک کوئی قابلِ ذکر منصوبہ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تیراہ کے لیے مختص چار ارب روپے کہاں خرچ کیے گئے؟ باڑہ کے سیاسی اتحاد نے بھی بدانتظامی اور بدعنوانی کی نشاندہی کی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں جب فتنہ الخوارج حملہ کرتا ہے تو پاک فوج آگے بڑھ کر عوام کی حفاظت کرتی ہے جبکہ صوبائی حکومت اکثر غائب ہوتی ہے،قدرتی آفات کے دوران بھی پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کی مدد کرتی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا کام صرف احتجاج کرنا اور اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھنا رہ گیا ہے، گورنر راج ایک آئینی آپشن ہے اور جب کوئی صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو جائے تو یہ اختیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ انہیں مکمل طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، رضامندی کے بعد ان کا علاج کیا گیا اور ایک معمولی طبی عمل کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست پاکستان دہشت گردی، پراکسی جنگ اور بدامنی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ملک دشمن عناصر کو ہر صورت انجام تک پہنچایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل عطا اللہ تارڑ نے وفاقی وزیر کرتے ہوئے نے کہا کہ
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔