مزدوروں کی طاقت سے ہی تبدیلی ممکن ہے‘ سیف الدین
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مزدور ایک بہت بڑی طاقت اور قوت ہیں۔ مزدوروں کی قوت کے ذریعے دنیا میں بڑے بڑے انقلاب آئے ہیں ۔پاکستان میں بھی مزدوروں کی قوت کے ذریعے تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔فرسودہ نظام کی تبدیلی کے بغیر محنت کشوں کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔نیشنل لیبر فیڈریشن ایک نظریاتی تحریک ہے اوراس کا شاندار ماضی ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال کے ذریعے جدوجہد کو اور تیز کر کے سرمایہ دارانہ نظام کا مقابلہ کیا جائے ۔یہ بات جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر اور شعبہ محنت کے نگراں سیف الدین ایڈووکیٹ نے نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کی مجلس عاملہ کے اجلاس سے اپنے خطاب میں کہی ۔اس موقع پر نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر خالد خان ،سینئر نائب صدر امیرروان ،جنرل سیکرٹری محمدقاسم جمال نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر سیف الدین ایڈووکیٹ نے این ایل ایف کی ملحقہ یونینز کے عہدیداران کو الیکشن میں کامیابی پر پھولوں کے ہار بھی پہنائے اور انہیں ریفرنڈم میں کامیابی پر مبارک باد بھی پیش کی ۔مجلس عاملہ کے اجلاس میں نیشنل لیبر فیڈریشن بلوچستان کے جنرل سیکرٹری عمرحیات اور کوئٹہ زون کے صدر خدائی داد خان نے بھی خصوصی دعوت پر شرکت کی۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ ماضی میں طلبہ تحریک اور مزدور تحریک کا پاکستان کی سیاست میں اہم کردار رہا ہے لیکن جان بوجھ کر طلبہ تحریک اور مزدور تحریک کو کمزور کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان کمزور ہوا اور یہاں پر کرپٹ عناصر اور مافیاز کا قبضہ ہوا ہے۔ پوری پوری سیاسی جماعتوں کو مافیاز نے خریدا ہوا ہے اور ظلم کا نظام ہم پر مسلط ہے۔ ملک میں مہنگائی غربت کا راج ہے امیر آدمی امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے ۔نیشنل لیبر فیڈریشن ایک نظریاتی تحریک ہے اور ہم پاکستان کے مزدور کی قسمت کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں اس سلسلے میں محنت کشوں کو بھرپور جدوجہد کرنا ہوگی اور دیانت دار قیادت کا ساتھ دینا ہوگا۔جماعت اسلامی کے امیرحافظ نعیم الرحمان نظام کی تبدیلی کی جو جدوجہد کررہے ہیں ہمیں ان کا ساتھ دینا ہے اور کارخانوں فیکٹریوں میں بہتر ماحول پیدا کرکے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے اور یہاں ہزاروں کی تعداد میں فیکٹریاں اور کارخانے موجود ہیں۔ این ایل ایف کو کراچی کے تمام صنعتی زون میں متحرک ہونا ہوگا اور ہر محنت کش کے پاس پہنچ کر اس کی داد رسی کرنا ہوگی۔ نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر خالد خان نے کہا کہ نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کی سب سے بڑی مزدور فیڈریشن ہے ہم محنت کشوں کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور طریقے سے جدوجہد کررہے ہیں۔ محنت کشوں کے ادارے کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں اورٹریڈ یونینز کو ختم کرنے کے لیے سندھ لیبر کوڈ کو نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں جو ہم محنت کشوں کی طاقت کے ذریعے ناکام بنا دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیشنل لیبر فیڈریشن سیف الدین کے ذریعے کراچی کے ہے اور
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔