بانی انقلاب اسلامی کے مزار پر اپنی ایک تقریر میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آپ ان‌شاءالله بہت جلد خارجہ پالیسی کے میدان میں مقاومت کی برکات کا مشاہدہ کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے کہا کہ آپ ان‌شاءالله بہت جلد خارجہ پالیسی کے میدان میں مقاومت کی برکات کا مشاہدہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جس طرح مرد میدان ہیں بالکل اسی طرح سفارت کاری کے بھی علمبردار ہیں۔ ہم نے کبھی بھی ڈپلومیسی کا راستہ ترک نہیں کیا۔ سید عباس عراقچی نے ان خیالات کا اظہار آج صبح بانی انقلاب اسلامی، حضرت آیت الله روح الله موسوی الخمینی رہ کے مزار پر اپنی تقریر میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم نے ایرانی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لئے بات چیت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ ہماری مسلح افواج اور خارجہ محاذ ایک پیج پر ہیں۔ وہ اپنی ذمے داریاں انجام دے رہے ہیں اور ہم اپنی۔ ہم سب مل کر سلامتی کو یقینی بنانے اور اپنی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ، ایرانی تاریخ میں ایک فیصلہ کُن موڑ تھا اور ضروری ہے کہ آئندہ سالوں میں اس تاریخ کو رقم کیا جائے۔ 
سید عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی صدر نے جنگ کے ابتدائی دو تین دنوں میں دھمکی آمیز ٹویٹ کیا کہ بلا مشروط ہتھیار ڈال دو۔ یعنی وہ ایرانی عوام کو بغیر کسی نقصان کے تسخیر کرنے آئے تھے۔ اس ٹویٹ کی وضاحت کے لئے کسی خاص تشریح کی ضرورت نہیں۔ دوسری جانب انہوں نے پہلے روز سے ہی مذاکرات کرنے کا ڈھول پیٹا۔ جب ہم مذاکرات میں مشغول ہوئے تو ہم پر حملہ کر دیا۔ جس پر ہمارا یہ موقف رہا کہ پہلے حملہ بند کرو، پھر سفارت کاری کی بات کرو، جب کہ ان کا جواب تھا کہ پہلے مذاکرات کرو اور مذاکرات ہی کے نتیجے میں جنگ بندی ہو سکتی ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ تمہیں ہتھیار ڈال کر مذاکرات کرنا ہوں گے۔ اس صورت حال میں ایرانی عوام نے رہبر معظم انقلاب کی دانشمندی سے مزاحمت کا راستہ چنا۔ اس جنگ میں امام خمینیؒ کا خون پر تلوار کی فتح کا فلسفہ ابھر کر سامنے آیا۔ اس جنگ میں امام خمینیؒ کا ایک اور کلمہ بھی سچ ثابت ہوتا دکھائی دیا جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر کسی کمانڈر کے ہاتھ سے پرچم گر جائے تو دوسرا کمانڈر اسے اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سید عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے تھا کہ

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، پاک۔ایران دیرینہ تعلقات کا اعادہ
  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات، علاقائی امن کے لیے سفارتی روابط جاری رکھنے پر اتفاق
  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اہم ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران
  • اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی