ہم نے کبھی بھی بات چیت کا راستہ ترک نہیں کیا، سید عباس عراقچی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
بانی انقلاب اسلامی کے مزار پر اپنی ایک تقریر میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آپ انشاءالله بہت جلد خارجہ پالیسی کے میدان میں مقاومت کی برکات کا مشاہدہ کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے کہا کہ آپ انشاءالله بہت جلد خارجہ پالیسی کے میدان میں مقاومت کی برکات کا مشاہدہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جس طرح مرد میدان ہیں بالکل اسی طرح سفارت کاری کے بھی علمبردار ہیں۔ ہم نے کبھی بھی ڈپلومیسی کا راستہ ترک نہیں کیا۔ سید عباس عراقچی نے ان خیالات کا اظہار آج صبح بانی انقلاب اسلامی، حضرت آیت الله روح الله موسوی الخمینی رہ کے مزار پر اپنی تقریر میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم نے ایرانی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لئے بات چیت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ ہماری مسلح افواج اور خارجہ محاذ ایک پیج پر ہیں۔ وہ اپنی ذمے داریاں انجام دے رہے ہیں اور ہم اپنی۔ ہم سب مل کر سلامتی کو یقینی بنانے اور اپنی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ، ایرانی تاریخ میں ایک فیصلہ کُن موڑ تھا اور ضروری ہے کہ آئندہ سالوں میں اس تاریخ کو رقم کیا جائے۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی صدر نے جنگ کے ابتدائی دو تین دنوں میں دھمکی آمیز ٹویٹ کیا کہ بلا مشروط ہتھیار ڈال دو۔ یعنی وہ ایرانی عوام کو بغیر کسی نقصان کے تسخیر کرنے آئے تھے۔ اس ٹویٹ کی وضاحت کے لئے کسی خاص تشریح کی ضرورت نہیں۔ دوسری جانب انہوں نے پہلے روز سے ہی مذاکرات کرنے کا ڈھول پیٹا۔ جب ہم مذاکرات میں مشغول ہوئے تو ہم پر حملہ کر دیا۔ جس پر ہمارا یہ موقف رہا کہ پہلے حملہ بند کرو، پھر سفارت کاری کی بات کرو، جب کہ ان کا جواب تھا کہ پہلے مذاکرات کرو اور مذاکرات ہی کے نتیجے میں جنگ بندی ہو سکتی ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ تمہیں ہتھیار ڈال کر مذاکرات کرنا ہوں گے۔ اس صورت حال میں ایرانی عوام نے رہبر معظم انقلاب کی دانشمندی سے مزاحمت کا راستہ چنا۔ اس جنگ میں امام خمینیؒ کا خون پر تلوار کی فتح کا فلسفہ ابھر کر سامنے آیا۔ اس جنگ میں امام خمینیؒ کا ایک اور کلمہ بھی سچ ثابت ہوتا دکھائی دیا جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر کسی کمانڈر کے ہاتھ سے پرچم گر جائے تو دوسرا کمانڈر اسے اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے تھا کہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عرب ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بیک وقت بندش عالمی معیشت کو تباہ کر دے گی۔ ان دونوں آبنائے کا متبادل بنانے میں دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی معیشت کے معروف عرب ماہر ڈاکٹر کامل وزنة نے ایران میں جاری جنگ اور اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ممکنہ بندش کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دنیا ایک ایسے حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی جو ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرے گا اور عالمی منڈیوں کو مہنگائی کی ایک غیر معمولی لہر کی طرف دھکیل دے گا۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے عربی ویب سائٹ عربی 21 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا فوجی کشیدگی کے دوسرے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آنا عالمی منڈیوں میں استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری کے عمل کو روک چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بتدریج بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشیا اور توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کی بندش دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور تمام ممالک کے معاشی مسائل میں شدت کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مسئلہ صرف ایک آبنائے کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری کی پوری ریاستیں عالمی تجارت کے بہاؤ اور بنیادی وسائل تک رسائی سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ وسائل عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے خطے اور خصوصاً سعودی عرب پر اس بحران کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے خطے کے ممالک کی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا، اگرچہ سعودی عرب کی معیشت نسبتاً مضبوط اور زیادہ لچکدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران نے پورے خطے میں معاشی سست روی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات جائیداد کی مارکیٹ، روزگار، سرمایہ کاری کے مواقع اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے علاقے یا اپنے ملک میں جاری جنگ سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسی لیے بحران کے خاتمے کے لیے جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ اہم سمندری گزرگاہیں بند رہیں تو عالمی معیشت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری یا تیار متبادل موجود نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 20 سے 25 فیصد بنیادی وسائل اور توانائی کی ترسیل آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہوتی ہے، اور عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی متعدد بار اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر چکی ہیں۔
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روس اور جرمنی کے درمیان گیس پائپ لائن کی مثال دی، جو مکمل ہونے کے باوجود یوکرین جنگ کے بعد تخریب کاری کا نشانہ بنی اور دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔