ایرانی حکومت کا بڑا اعتراف؟ تین ہزار سے زائد ہلاک مظاہرین کی فہرست جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دفتر سے گزشتہ ماہ ہونے والے مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے 2,985 افراد کے نام اور شناخت جاری کر دیے گئے ہیں۔
ایوانِ صدر کے مطابق ہلاک ہونے والوں کے ناموں کی فہرست ملک کے مختلف قومی اخبارات میں شائع کی گئی ہے۔
صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات میں مجموعی طور پر 3,117 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم 131 لاشوں کی شناخت تاحال ممکن نہیں ہو سکی، اسی وجہ سے ان کے نام فہرست میں شامل نہیں کیے گئے۔
بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ جاری کی گئی فہرست میں اب بھی کئی نام شامل نہیں۔
مزید پڑھیںخامنہ ای کی دھمکی کے بعد ٹرمپ نے ایران سے ممکنہ معاہدے کیلئے امید ظاہر کردی
ایران پر حملہ خطے میں جنگ کا باعث ہوگا، خامنہ ای کی امریکا کو تنبیہ
ان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے اور ایرانی حکومت اس فہرست کے ذریعے ہلاکتوں کی تعداد کم ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں قائم ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم کا کہنا ہے کہ تین ہزار سے زائد افراد کے ناموں کی اشاعت دراصل ایک سنگین اور بھیانک جرم کا اعتراف ہے، جس کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات ہونی چاہییں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔