غزہ :صہیونی حملوں میں 2 فلسطینی شہید،اسرائیل نے رفح کراسنگ محدود طور پر کھول دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260202-01-28
غزہ /اتل بیب /قاہرہ /لندن /اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ میں اتوار کے روز اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں2 شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے، جو کہ مسلسل 113 ویں روز بھی سیز فائر کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔ فلسطینی میڈیا کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے ایک ڈرون طیارے نے وسطی غزہ میں وادی غزہ کے گردونواح میں شہریوں کے ایک گروہ کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل کی عسکری گاڑیوں نے وسطی قطاع غزہ میں ہی واقع البریج کیمپ کے مشرقی علاقوں کی جانب اندھا دھند فائرنگ بھی کی۔ اسرائیل نے تقریباً 2 برس بعد غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح سرحدی گزرگاہ کو محدود سطح پر دوبارہ کھول دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس اقدام کو ’’پائلٹ آپریشن‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ لوگوں کی باقاعدہ آمد و رفت (آج) پیر سے شروع ہوگی۔اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق ابتدائی مرحلے میں روزانہ تقریباً 150 افراد کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ تقریباً 50 افراد کی واپسی متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق غزہ چھوڑنے والے فلسطینی صرف اسی راستے سے واپس آ سکیں گے۔اخبار کا کہنا ہے کہ اسرائیل سرحدی گزرگاہ پر براہِ راست فوجی تعینات نہیں کرے گا بلکہ جدید نگرانی کے آلات کے ذریعے دور سے مانیٹرنگ کی جائے گی۔ مصر کی جانب سے روزانہ ان افراد کی فہرست اسرائیل کو فراہم کی جائے گی جو اگلے 24 گھنٹے میں سرحد عبور کریں گے۔ اسرائیلی انتظامیہ نے غزہ کی پٹی میں انسانی خدمات انجام دینے والی عالمی تنظیم’ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈر‘ کی سرگرمیاں ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا اور تنظیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ 28 فروری تک اپنی تمام امدادی کارروائیاں بند کر کے غزہ چھوڑ دے۔ اس فیصلے سے ہزاروں فلسطینی بنیادی طبی سہولتوں سے محروم ہو جائیں گے ۔ اسرائیلی فوج نے رام اللہ کے شمال میں واقع الجلزون کیمپ پر دھاوے کے دوران 2 نوجوانوں کو گولیوں کا نشانہ بنا کر زخمی کر دیا جبکہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 2 بچوں سمیت 7 نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی اثنا میں قابض آبادکاروں نے فلسطینیوں کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور درختوں کو آگ لگا کر اپنی سفاکیت کا تازہ ثبوت دیا۔ برطانوی دارالحکومت لندن میں بڑا عوامی مظاہرہ کیا گیا۔ اس احتجاج میں ایک لاکھ سے زاید افراد نے شرکت کی جنہوں نے شہر کی مرکزی شاہراہوں پر مارچ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے زیرِ قیادت نام نہاد “مجلسِ امن’’ کو مسترد کر دیا۔ مظاہرین نے اسرائیل کی جارحیت کے مکمل خاتمے، غاصبانہ قبضے کی بیخ کنی اور فلسطینی اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ دہرایا۔شرکا نے فلسطین کے پرچم اور ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر جنگی جرائم کے ذمہ داروں کے احتساب، اسرائیل کو اسلحے کی ترسیل روکنے اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خاتمے کے مطالبات درج تھے۔ پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کی اسرائیل کی جانب سے بار بار خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے، جن کے نتیجے میں ایک ہزار سے زاید فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔ دفتر خارجہ سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں اور امن و استحکام کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ایسے وقت میں جب علاقائی اور بین الاقوامی فریق اجتماعی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عملدرآمد کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیل کی
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔