ایران سے جنگ ہماری معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی، اسرائیلی میڈیا کا اظہار تشویش
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے ایران سے ممکنہ جنگ کے تباہ کن اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران سے کوئی نئی جنگ شروع ہو جاتی ہے تو اسرائیل کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ ایسے حالات میں جب مغربی ایشیا خطے میں تناو کی شدت میں اضافے کی چہ میگوئیاں جاری ہیں، اسرائیل کے مختلف ذرائع ابلاغ نے ایران سے ممکنہ فوجی ٹکراو کے نتیجے میں سامنے آنے والے تباہ کن اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عبری زبان میں اسرائیلی ٹی وی چینل آئی 24 نیوز پر ایک صیہونی اقتصادی تجزیہ کار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "بات صرف ایک روایتی جنگ تک محدود نہیں ہے بلکہ اسرائیل کی اقتصادی شاہرگوں پر براہ راست چوٹ لگنے کا امکان ہے۔ ایسی چوٹ جس کے نتیجے میں ہماری بندرگاہیں اور ایئرپورٹ بند ہو جائیں گے اور اس کے بعد بیرونی سرمایہ کاری کم ہونے کے ساتھ ساتھ انشورنس کے اخراجات میں بھی ہوشربا اضافہ ہو جائے گا۔" اسرائیلی چینل آئی 24 نیوز سے بات چیت کرنے والے دیگر اقتصادی تجزیہ کاروں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران سے جنگ کا حتمی نتیجہ، فضائی نقل و حمل اور بیرونی تجارت جیسے اسرائیل کے اہم اور کلیدی شعبے مفلوج ہو جانے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ حمل و نقل اور انرجی کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ بھی جنگ کے ایسے ہی منفی اثرات میں سے ایک ہے جس کا براہ راست اثر اندرونی منڈیوں پر ظاہر ہو گا۔ ان تجزیہ کاروں کے بقول کسی بھی جنگ میں سب سے پہلے اندرونی شعبے اس کی بھینٹ چڑھیں گے اور ہزاروں کارخانے اور چھوٹے ادارے بند ہو جانے کے باعث حکومتی اور پرائیویٹ کمپنیوں کو چند دنوں کے اندر اندر اربوں شیکل کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
آئی 24 نیوز نے جنگ کی صورت میں مالی نقصان کی جو تصویر پیش کی ہے وہ بھی بہت تشویشناک ہے۔ اس میڈیا کے مطابق اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ فوجی اخراجات میں بے پناہ اضافے کے ساتھ ساتھ مالی آمدن بھی شدید گراوٹ کا شکار ہو جائے گی۔ یوں بجٹ میں شدید کمی واقع ہو گی اور کابینہ دو مشکل انتخاب سے روبرو ہو گی: یا تو قرض حاصل کرے یا پھر اخراجات میں کمی لائی جائے جس کا براہ راست بوجھ عوام پر پڑے گا۔ یہ شدید اقتصادی دباو، خاص طور پر جنگ طول پکڑ جانے کی صورت میں یا اس کا علاقائی سطح پر پھیل جانے کی صورت میں، بیرونی سرمایہ کار فرار ہو جانے کا باعث بن سکتا ہے اور یوں اسرائیل کی معیشت زوال کا شکار ہو جائے گی۔ آئی 24 نیوز چینل آخر میں یہ نتیجہ نکالتا ہے: "تل ابیب میں صورت حال واضح ہے اور وہ یہ کہ حتی اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تب بھی اس کا حتمی نقصان اسرائیل کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔" یوں غاصب صیہونی رژیم کے اندرونی حلقوں میں ایران سے ممکنہ جنگ صرف فوجی شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ اسے دیگر شعبوں، خاص طور پر اقتصادی شعبے کے تناظر سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ بعض اسرائیلی حلقے ایران سے جنگ کو "بھاری نقصان کا حامل اقتصادی جوا" قرار دے رہے ہیں جو اسرائیلی معیشت کو آئندہ چند سال تک مفلوج کر سکتا ہے۔
یاد رہے گذشتہ چند دہائیوں کے دوران اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم متعدد سیکورٹی اور اقتصادی صدمات کا شکار ہوتی آئی ہے۔ علاقائی جنگوں سے لے کر مختصر مدت کی جنگیں جنہوں نے سیاحت کے شعبے، بیرونی سرمایہ کاری اور تجارت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیلی تجزیہ کار اور ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایران ایک علاقائی طاقت کی حیثیت رکھتا ہے اور اس سے ممکنہ جنگ کے تباہ کن اثرات ماضی کی جنگوں سے کہیں زیادہ گہرے اور وسیع ہو سکتے ہیں۔ آئی 24 نیوز چینل نے سیاسی اور سیکورٹی پہلو سے اس مسئلے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکام نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں کئی اجلاس منعقد کیے ہیں اور ان میں ایران سے ممکنہ جنگ پر غور کیا ہے لیکن اب بھی ایران کے خلاف امریکہ کا فوجی اقدام "غیر یقینی" ہے۔ ان کے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکن ہے "طاقت پر مبنی سفارتکاری" کا سہارا لینے کا فیصلہ کرے اور یوں فوجی دباو کو صرف ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لوٹانے کے مقصد سے بروئے کار لائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران سے ممکنہ اخراجات میں کی صورت میں اسرائیل کی آئی 24 نیوز تجزیہ کار ہو جائے تباہ کن
پڑھیں:
کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار اور گلوکار فواد خان ایک بار پھر اپنے منفرد انداز کی وجہ سے سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ حال ہی میں ان کی نئی تصاویر سامنے آئیں، جن میں ان کی شخصیت اور چہرے کے خدوخال پہلے کے مقابلے میں کچھ مختلف دکھائی دیے، جس کے بعد مداحوں کے درمیان دلچسپ بحث چھڑ گئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان تصاویر نے چند ہی لمحوں میں صارفین کی توجہ حاصل کرلی۔ متعدد افراد نے فواد خان کے نئے انداز پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، جبکہ تصاویر مختلف پلیٹ فارمز پر تیزی سے گردش کرنے لگیں۔
بعض مداحوں کا کہنا ہے کہ فواد خان ہر روپ میں پرکشش دکھائی دیتے ہیں اور ان کی شخصیت ہمیشہ کی طرح متاثر کن ہے۔ کچھ صارفین نے رائے دی کہ اداکار کے نئے چہرے کے نقوش معروف ترک اداکاروں سے کافی حد تک مشابہت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا انداز مزید منفرد محسوس ہو رہا ہے۔
View this post on Instagramدوسری جانب کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اس نئے لک پر تنقید بھی کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ فواد خان نے کم عمر دکھائی دینے کے لیے ممکنہ طور پر مختلف کاسمیٹک یا سرجیکل طریقۂ کار اختیار کیے ہیں، تاہم اداکار کی جانب سے ان قیاس آرائیوں پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اگرچہ تصاویر پر مختلف آرا سامنے آرہی ہیں، لیکن فواد خان کا نیا انداز ایک بار پھر ثابت کر گیا کہ وہ جہاں بھی نظر آئیں، مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر ہی لیتے ہیں۔