ایران، روس اور چین شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری مشقیں کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران :ایران، روس اور چین نے شمالی بحرِ ہند میں مشترکہ بحری مشقیں کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان مشقوں میں تینوں ممالک کی بحری افواج حصہ لیں گی اور یہ مشقیں رواں ماہ منعقد ہوں گی۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان بحری مشقوں کو میری ٹائم سکیورٹی بیلٹ کا نام دیا گیا ہے۔ مشقوں میں ایرانی بحریہ، پاسداران انقلاب کی بحری یونٹس، اور روس و چین کی بحری افواج شریک ہوں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان مشقوں کا مقصد سمندری سلامتی کو مضبوط بنانا، کسی بھی ممکنہ خطرے یا حملے سے نمٹنے کی پیشگی تیاری کرنا، اور تینوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو فروغ دینا ہے، ایران کی بحریہ نے ان مشترکہ بحری مشقوں کا آغاز 2019 میں کیا تھا اور اب تک یہ مشقیں سات مرتبہ منعقد کی جا چکی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا بحری بیڑہ بھی تعینات کر رکھا ہے،مشترکہ مشقیں خطے میں طاقت کے توازن اور سٹریٹیجک اثرات کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی بحری
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔