لاپتا افراد کا بیانیہ مکمل فراڈ، دہشگردکسی رعایت کی توقع نہ رکھیں، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
سیالکوٹ(نیوزڈیسک)وزیردفاع خواجہ آصف نے بھارت اورکالعدم بی ایل اے کو ایک سکے کے دو رخ قرار دے دیا۔
میڈیا سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ کل بلوچستان میں دہشتگردی کے 12 مختلف واقعات ہوئے، ایک سال کے اندربی کالعدم ایل اے کے نقصانات کو ریکورکرنے کےلئے یہ ٹارگٹ کیا گیا، ہندوستان اور کالعدم بی ایل اے ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ گزشتہ سال ہندوستان کوپھینٹی لگنے کے بعد سویلین کونشانہ بنایاجارہا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ گرفتار دہشتگردوں کے بیانات بھارت سے روابط کے واضح ثبوت ہیں۔ ان کے ہینڈلرز افغانستان میں ہیں، سویلین آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ امن دشمن کسی رعایت کی توقع نہ رکھیں۔ سہولت کاروں کا بھی خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔
وزیردفاع نے کہا کہ لاپتا افراد کا بیانیہ مکمل فراڈ ہے، ہلاک دہشت گرد مسنگ پرسنزکی فہرستوں میں نکلتے ہیں۔ یاتومسنگ پرسن دبئی میں رہتے ہیں یا دہشتگردی کرتے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کلیئرنس آپریشن میں مصروف ہیں ۔ بلوچستان کےطول و عرض میں امن قائم ہوچکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔