جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری،فضائی حملوں میں 32 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ: اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ میں کم از کم 32 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں بڑی تعداد میں بچے اور خواتین شامل ہیں، یہ حملے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد صبح کے وقت سے جاری حملوں کے بعد بڑھ گئی۔ سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ حملوں میں رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں اور ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں انسانی المیہ پیدا ہوا، غزہ شہر کے رمال علاقے میں ایک رہائشی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جہاں کئی افراد ملبے تلے دب گئے۔
ایک متاثرہ خاندان کے رکن نے بتایا کہ تین بچیاں نیند کی حالت میں شہید ہو گئیں اور ان کی لاشیں سڑک پر ملی ہیں، علاقے میں پولیس اسٹیشن پر ہونے والے حملے میں کم از کم سات افراد شہید ہوئے، جن میں خواتین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، حملے کے وقت عمارت میں عام شہری بھی موجود تھے۔
دوسری جانب جنوبی غزہ کے المواسی علاقے میں قائم ایک پناہ گاہ پر بھی اسرائیلی حملہ کیا گیا، جہاں ہزاروں بے گھر فلسطینی خیموں میں مقیم ہیں۔ اس حملے میں جانی نقصان کی حتمی تعداد ابھی معلوم نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب حماس نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی اور انہیں سنگین جنگی جرم قرار دیا، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 509 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اسرائیل نے رفح بارڈر کو محدود آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا جو جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اہم حصہ ہے۔ مصر نے بھی اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل اور تحمل مزاجی کی اپیل کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حملوں میں
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔