اوورسیز پاکستانیوں کوسہولیات فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، چوہدری سالک
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزارتِ اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ اور پاکستانی قونصلیٹ بارسلونا اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور ان کے حل کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اوورسیز پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر پاکستانی قونصلیٹ بارسلونا نے ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات ختم کر دی ہیں اور گزشتہ تین دنوں سے صبح 8 بجے سے رات 11 بجے تک بلا تعطل خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس دوران قونصلیٹ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 200 پاسپورٹس کی پراسیسنگ جبکہ تقریباً 600 اتھارٹی لیٹرز برائے کیریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کر رہا ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق نئے پاسپورٹ کے اجرا کے لیے معقول جواز فراہم کرنا ضروری ہے، جبکہ اگر کسی شہری کے پاسپورٹ کی مدتِ معیاد باقی ہو تو نیا پاسپورٹ صرف گمشدگی رپورٹ کی بنیاد پر جاری کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں اسپین میں مستقل پاسپورٹ کے حصول کے لیے سابقہ پاسپورٹس یا پاسپورٹ کی گمشدگی رپورٹ کا ہونا لازمی ہے۔چوہدری سالک حسین نے بتایا کہ وزارتِ اوورسیز پاکستانیز اور پاکستانی قونصلیٹ بارسلونا اس معاملے پر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ پاسپورٹ گمشدگی رپورٹ کی شرط میں ممکنہ نرمی لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ قونصلیٹ نے مقامی پولیس حکام سے بھی بات چیت کی ہے، جس کے بعد پاسپورٹ گمشدگی رپورٹ فوری طور پر درج کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق اگر پاسپورٹ گمشدگی رپورٹ کی شرط میں نرمی کی جاتی ہے تو قونصلیٹ بغیر گمشدگی رپورٹ کے بھی نئے پاسپورٹس کے اجرا کا آغاز کر دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اوورسیز پاکستانیوں کو گمشدگی رپورٹ
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔