گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟
میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ارب دیں گے، پی ٹی آئی حکومت کو خراب کرنیکیلئے آپریشن کرتے ہیں،امن جرگہ سے خطاب

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پیر کو وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دعوت ملی ہے، ملاقات میں صوبے کے مسائل کا مقدمہ رکھوں گا، اس کے علاوہ تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر بھی رائے لوں گا۔ خیبرامن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ بارڈرز کی حفاظت سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ہے، ہمارے گھروں تک پہنچنے سے پہلے 50؍50 چیک پوسٹیں ہیں، وہ سب کراس کے ہمارے گھروں تک پہنچتے تو آپ ہمیں گھروں سے نکالتے ہو جو سرسر زیادتی ہے، جب دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچ گئے تو ڈرون اٹیک اور جیٹ طیاروں کی بمباری شروع کردی اس بمباری میں ایک ایک گھر کے 21؍21 بے گناہ لوگ شہید ہوئے۔سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ جب معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں تو عسکری جرگے کو لائیو دکھانے والا میڈیا ہمارے ان معصوم شہیدوں کو دہشتگرد بنا کر دکھاتا ہے، آپ گواہی دیتے ہو وہ اکیس لوگ بے گناہ تھے؟ ان میں ایک معصوم بچی بھی شہید ہوئی یہاں کے لوگوں نے جب احتجاجاً اس کی لاش ان کے سامنے رکھی تو انہوں نے ان پرامن احتجاج کرنے والوں پر بھی گولیاں چلائیں اور پانچ لوگ وہاں شہید ہوئے، یہ سب آپریشن کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیا جارہا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ مجھے پتہ تھا یہ آپریشن کریں گے اس لیے میں نے ان کو کہا کہ آپ مجھے یا پی ٹی آئی حکومت کو خراب کرنے کے لیے آپریشن کرتے ہیں تو یاد رکھو وہاں برفباری پڑنے والی ہے، پہلے انہوں نے مجھے سمگلر اور پھر دہشتگرد کا بیانیہ بنایا جب ان دونوں بیانیوں میں میرے پختونوں نے انہیں شکست دی تو انہوں نے آپریشن کا سہارا لیا، لوگوں کو گھروں سے نکالا، جب برف باری میں لوگ پھنس گئے اور سوشل میڈیا پر دنیا بھر سے ان پر لعن تعن ہونے لگی تو انہیں لگا کہ اب خراب ہورہے ہیں انہوں نے ایک کارٹون کے ذریعے پریس ریلیز جاری کی کہ وہاں سے لوگ خود اپنی مرضی سے نکلے۔وزیراعلیٰ کا دعویٰ ہے کہ آپریشن کے حوالے سے بننے والی 24 رکنی کمیٹی میں آئی جی ایف سی اور کورکمانڈر شامل تھے، ان کی سربراہی میں کمیٹی بنی وہ اس سارے پراسس سے باخبر تھے، ان کی یہ پریس ریلیز اپنے ہی آئی جی ایف سی اور کور کمانڈر کے خلاف عدم اعتماد تھی، میں نے ان کو کہا کہ پریس ریلیز واپس لے کر معافی مانگو ورنہ کل تمہارے ہی کور کمانڈر اور آئی جی ایف پر لوگ آئندہ اعتماد نہیں کریں گے انہوں نے بات نہیں مانی، وفاق نے ماضی میں آئی ڈی پیز کے اربوں روپے ہڑپ کیے، میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کے لیے 100 ارب روپے دیں گے، تمام قبائلی اضلاع جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ہمارے گھروں تک انہوں نے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن