ورلڈ بینک کے صدر کا گردوارہ پنجہ صاحب کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
ورلڈ بینک کے صدر اجے پال سنگھ بنگا نے ضلع اٹک کے تاریخی شہر حسن ابدال میں واقع سکھوں کے مقدس مقام گردوارہ سری پنجہ صاحب کا دورہ کیا.جہاں انہوں نے حاضری دی. خصوصی دعائیہ تقریب میں شرکت کی اور سکھ برادری کے ساتھ لنگر بھی تناول کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور پنجاب کے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے جب کہ اعلیٰ سول اور پولیس افسران بھی موجود رہے۔پنجاب حکومت نے اس موقع پر صوبے میں موجود تاریخی مذہبی مقامات کی تزئین و آرائش اور بحالی کے جاری منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ہر سال بیساکھی سمیت مختلف مذہبی مواقع پر ہزاروں مقامی اور غیر ملکی سکھ یاتری پاکستان کا رخ کرتے ہیں جو پاکستان میں مذہبی آزادی، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا عملی ثبوت ہے۔ورلڈ بینک کے صدر کی گردوارہ پنجہ صاحب آمد کو عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص، مذہبی برداشت اور مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔اس دورے سے نہ صرف بین الاقوامی خیرسگالی کو فروغ ملا بلکہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور جامع طرزِ حکمرانی کے حکومتی مؤقف کو بھی تقویت ملی۔
واضح رہے کہ تاریخی مذہبی مقامات کی بحالی اور بہتر سہولیات کی فراہمی سے پاکستان میں مذہبی سیاحت کو مزید فروغ ملے گا .
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔