اربوں ڈالرز مالیتی پتھروں کی برآمد اور ریگولرائزیشن پلان تیار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان میں اربوں ڈالر کی قیمتی پتھروں کی بہتات کے باوجود عالمی مارکیٹ میں حصہ صرف 0.3 فیصد ہے۔ حکومت نے قیمتی پتھروں کی برآمد اور ریگولرائزیشن کیلئے پلان تیار کرلیا۔ 2030 تک 35 کروڑ ڈالر کا برآمدی ہدف مقرر کردیا گیا۔
پاکستان میں اربوں ڈالر کے قیمتی پتھروں کی برآمد اور ریگولرائزیشن کا پلان سامنے آگیا۔ پالیسی دستاویز کے مطابق 5 سال میں 610برآمدکنندگان کو عالمی منڈیوں میں نمائش کی سہولت دی جائے گی۔ کاروبار کی رجسٹریشن،صوبائی ہم آھنگی اور سہولیات کیلیے مرکزی اتھارٹی بنانے کی تجویز ہے۔ اتھارٹی میں وفاقی اور صوبائی نمائندے شامل،ادارہ قومی جمیز سٹوںن پالیسی کا نگران ہوگا۔
نیشنل ورائٹی آفس قائم اور برآمد نہ ہونے والے سامان کی واپسی یقینی بنائی جائے گی، برآمد کندگان کو لین دین آسان بنانے کیلئے ای پیمنٹ گیٹ ویز کی سہولیات دی جائے گی۔
قیمتی پتھروں کی قانونی تجارت بڑھانے کیلئے 6 ورکنگ گروپس بنا دیئے گئے، بینکاری و مالی امور میں بہتری،غیرفروخت شدہ مال کے ری فنڈ سے متعلق ورکنگ گروپ شامل ہیں، گروپس کان کنی کے شعبے میں جدت اور کاروبار کی رجسٹریشن پر بھی کام کریں گے۔
دستاویز کے مطابق رجسٹریشن اور ٹریسی ایبلیٹی سے 6کروڑ ڈالر سے زائد کی ویلیو ایڈیشن متوقع ہے، تمام ادارے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی سہہ ماہی رپورٹ وزارت کو دیں گے۔
حکام کے مطابق پاکستان میں 450ارب ڈالر سے زائد مالیت کے قیمتی پتھر موجود ہیں، پاکستان میں 200ملین قیراط یاقوت،70ملین قیراط زمرد اور دیگر قیمتی پتھر ہیں، پرانے طریقوں سے پراسیسنگ سے 70فیصد تک قیمتی پتھر ضائع ہورہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔