اربوں ڈالر کے قیمتی پتھروں کی برآمد اور ریگولرائزیشن کیلیے جامع منصوبہ متعارف کروانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے اربوں ڈالر کے قیمتی پتھروں کی برآمد اور ریگولرائزیشن کیلیے پانچ سالہ جامع منصوبہ متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
منصوبے کے تحت پانچ سال میں 610 برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں میں نمائش کی سہولت دی جائے گی جبکہ کاروبار کی رجسٹریشن، صوبائی ہم آہنگی اور سہولیات کے لیے مرکزی اتھارٹی بنانے کی بھی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ اتھارٹی میں وفاقی اور صوبائی نمائندے شامل ہوں گے جبکہ ادارہ قومی جمیز اسٹوںن پالیسی کا نگراں ہوگا۔
نیشنل ورائٹی آفس قائم اور برآمد نہ ہونے والے سامان کی واپسی یقینی بنائی جائے گی، برآمد کندگان کو لین دین آسان بنانے کے لیے ای پیمنٹ گیٹ ویز کی سہولیات دی جائے گی۔
مزید پڑھیںقیمتی پتھروں اور زیورات کا شعبہ برآمداتی حکمتِ عملی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، وزیر تجارت
قیمتی پتھروں کی قانونی تجارت بڑھانے کے لیے 6 ورکنگ گروپس قائم کر دیے گئے ہیں جن میں بینکاری و مالی امور میں بہتری، غیر فروخت شدہ مال کے ری فنڈ سے متعلق ورکنگ گروپ شامل ہیں۔ گروپس کان کنی کے شعبے میں جدت اور کاروبار کی رجسٹریشن پر بھی کام کریں گے۔
حکام کے مطابق رجسٹریشن اور ٹریسی ایبلیٹی سے 6کروڑ ڈالر سے زائد کی ویلیو ایڈیشن متوقع ہے، تمام ادارے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کی سہہ ماہی رپورٹ وزارت کو دیں گے۔
حکام کے مطابق پاکستان میں 450ارب ڈالر سے زائد مالیت کے قیمتی پتھر موجود ہیں۔ پاکستان میں 200 ملین قیراط یاقوت، 70 ملین قیراط زمرد اور دیگر قیمتی پتھر ہیں۔ پرانے طریقوں کے ذریعے پراسیسنگ سے 70فیصد تک قیمتی پتھر ضائع ہو رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قیمتی پتھروں
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔