بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ موجودہ حالات میں درست ہے، شاہد آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے حکومتی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ فیصلہ نہ صرف قابلِ فہم بلکہ درست بھی ہے، اگرچہ کرکٹ کو ہمیشہ سیاست سے بالاتر رہنا چاہیے، بعض اوقات حالات ایسے ہوتے ہیں جہاں قومی مفاد کو اولین ترجیح دینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کرکٹ کئی مواقع پر سیاسی کشیدگی کم کرنے اور عوام کو قریب لانے میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہے لیکن موجودہ صورتحال میں پاکستان کا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ سمجھ میں آتا ہے، یہ فیصلہ اگرچہ شائقینِ کرکٹ کے لیے افسوسناک ہے، وہ اس معاملے میں حکومتِ پاکستان کے مؤقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔
سابق کپتان نے واضح کیا کہ قومی وقار، سلامتی اور اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے،کھیل اہم ہے لیکن ملک کے مفادات اس سے بھی زیادہ اہم ہیں اور ایسے حالات میں مشکل فیصلے کرنا قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
شاہد آفریدی نے اس موقع پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے کردار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے کے لیے ایک اہم امتحان ہے، آئی سی سی کو صرف بیانات اور رسمی اعلانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایک غیر جانبدار اور خودمختار ادارہ ہے جو تمام رکن ممالک کے ساتھ یکساں اور منصفانہ سلوک کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر آئی سی سی واقعی عالمی کرکٹ کی نمائندہ تنظیم ہے تو اسے طاقتور اور کمزور ممالک کے درمیان کوئی تفریق نہیں رکھنی چاہیے،ماضی میں بھی ایسے فیصلے سامنے آئے ہیں جن سے آئی سی سی کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھے۔
شاہد آفریدی نے بنگلا دیش کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بنگلا دیش نے بھارت میں سیکیورٹی خدشات کے باعث آئی سی سی سے ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی تھی، آئی سی سی نے اس حساس مسئلے کے حل کی جانب سنجیدگی سے توجہ دینے کے بجائے ٹورنامنٹ میں اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا، جو کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلوں سے تاثر ملتا ہے کہ آئی سی سی بعض معاملات میں اصولوں کے بجائے دباؤ یا مصلحت کا شکار ہو جاتی ہے، جو عالمی کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہے، آئی سی سی کو تمام رکن ممالک کے خدشات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور شفاف، منصفانہ فیصلوں کے ذریعے اپنا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
آخر میں سابق کپتان نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں عالمی کرکٹ ادارے ایسے اقدامات کریں گے جو کھیل کو سیاست سے بالاتر رکھتے ہوئے تمام ممالک کے لیے مساوی مواقع اور تحفظ کو یقینی بنائیں گے تاکہ کرکٹ واقعی ایک عالمی کھیل کے طور پر فروغ پا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شاہد آفریدی ممالک کے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔