بی ایل اے کو بھارت کی سرپرستی حاصل، بھرپور کارروائی ہونی چاہیے، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بی ایل اے انڈیا ہے اور انڈیا بی ایل اے ہے، ان کے خلاف بھرپور کارروائی ہونی چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دہشتگردی ایک ناسور ہے جس کا ہر صورت خاتمہ ہونا چاہیے۔
بی ایل اے انڈیا ہے اور انڈیا بی ایل اے ہے ان کے خلاف بھرپور کارروائی ہونی چاہیے ،دہشتگردی ایک ناسور ہے اس کو ہرصورت ختم ہونا چاہیے ہماری افواج کے جوانوں نے بھرپور کردار ادا کیا ہے اور ان دہشتگردوں کو چُن چُن کرمارا ہے اس پر میں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، چیئرمین تحریک انصاف… pic.
— WE News (@WENewsPk) February 2, 2026
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ ہماری افواج کے جوانوں نے بھرپور کردار ادا کیا ہے اور دہشتگردوں کو چُن چُن کر مارا ہے، جس پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی وزیراعظم سے ملاقات خوش آئند ہے، یہ ملاقات خیبر پختونخوا کے مسائل سے متعلق تھی اور اس میں کسی قسم کی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے مطابق سیاسی مذاکرات کا مینڈیٹ محمود اچکزئی اور ناصر عباس کے پاس ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کا بائیکاٹ کرنے کے بجائے اس کا مقابلہ کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اچھے ہمسایے کی طرح رہنا چاہتا ہے، لیکن بھارت باز نہیں آرہا اور بی ایل اے کو اکسا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
بیرسٹر گوہر نے مزید کہاکہ دہشتگرد جہاں بھی ہوں، ان کے خلاف مؤثر کارروائی کا واحد راستہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بی ایل اے بیرسٹر گوہر چیئرمین پی ٹی آئی دہشتگردی وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بی ایل اے بیرسٹر گوہر چیئرمین پی ٹی ا ئی دہشتگردی وی نیوز بیرسٹر گوہر بی ایل اے ہے اور
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔