ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدہ چاہتے ہیں، اسرائیل میں امریکی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
ہاکبی نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران کشیدگی بڑھاتا ہے تو سب کچھ ختم ہو جائے گا، لیکن فی الحال اسرائیلیوں کو ہوشیار رہنا چاہیے اور اپنی روزمرہ کی زندگی کو جاری رکھنا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں امریکی سفیر نے دعویٰ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اگر امکان ہو تو اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں۔ تسنیم نیوز کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقے میں امریکی سفیر مائیک ہاکبی نے کہا ہے کہ ایران پر حملے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ بہترین نتائج کی امید کر رہے ہیں اور اگر ممکن ہوا تو معاہدے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران کشیدگی بڑھاتا ہے تو سب کچھ ختم ہو جائے گا، لیکن فی الحال اسرائیلیوں کو ہوشیار رہنا چاہیے اور اپنی روزمرہ کی زندگی کو جاری رکھنا چاہیے۔
ہاکبی نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف کوئی بھی امریکی فوجی کارروائی اسرائیل کے ساتھ قریبی رابطہ کاری میں کی جائے گی۔ مقبوضہ علاقوں میں امریکی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کا جو بھی دشمن ہے وہ امریکہ کا دشمن ہے۔ تاہم، انہوں نے ایک مضحکہ خیز دعویٰ کیا کہ ٹرمپ دو چیزیں کریں گے، پہلا، ایرانی عوام کی حفاظت اور دوسرا، یہ کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور یورینیم کی افزودگی نہیں کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں امریکی سفیر کیا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔