data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری) سانحہ گل پلازا کے بعد جہاں کراچی کی متعدد مارکیٹس و شاپنگ سینٹرز سمیت عوامی مقامات پر آگ بجھانے کے انتظامات کے حوالے سے سوالیہ نشان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں،وہیں یہ سنگین انکشاف بھی ہوا ہے کہ سپر ہائیوے پر قائم سبزی منڈی میں ماسٹر لے آؤٹ پلان میں فائر اسٹیشن کیلئے مختص جگہ پر قبضہ کرکے دکانیں بنا دی گئی ہیں،جس کے بعد آتشزدگی کے کسی بھی ناگہانی واقعہ کی صورت میں سبزی منڈی اور ہزاروں قیمتی جانیں داو پر لگ گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق 14فروری2005کو اس وقت کے سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے دور میں سبزی منڈی کے منظور کردہ ماسٹر لے آوٹ پلان میں فائر اسٹیشن کیلئے 4800اسکوائر فیٹ کی جگہ مختص کی گئی تھی،فائر اسٹیشن کیلئے جگہ مختص کرنے کا مقصد سبزی منڈی میں آتشزدگی کے کسی بھی ناگہانی واقعہ کی صورت میں فوری ریلیف فراہم کرنا تھا،تا کہ سبزی منڈی میں قیمتی املاک اور کسی بھی جانی نقصان سے محفوظ رہا جاسکے۔

نعمت اللہ خان کے دور میں ہی ایمر جنسی کیلئے سبزی منڈی میں ہمہ وقت ایک فائر بریگیڈ کی گاڑی بھی موجود رہتی تھی،تاہم مارکیٹ کمیٹی کی مبینہ عدم دلچسپی، عدم تعاون اور سہولیات فراہم نہ کرنے کے باعث یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔سبزی منڈی کا مجموعی رقبہ 94ایکڑ سے زائد ہے،جہاں ماسٹر لے آو ٹ پلان کے مطابق 4135دکانوں کی جگہ نکالی گئی تھیں،تاہم سبزی منڈی میں ماسٹر لے آو ¿ٹ پلان کے دھجیاں اڑا دی گئیں اور اس وقت سبزی منڈی میں 6500سے زائد دکانیں موجود ہیں،اپریل 2007کو مارکیٹ کمیٹی نے سبزی منڈی کا نظر ثانی ماسٹر لے آو ٹ پلان جاری کیا تھا جو کہ مسترد کردیا گیا تھا۔

سبزی منڈی میں فائر اسٹیشن کیلئے مختص 4800اسکوائر فیٹ کی جگہ پر مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے بلاک اے ایف ون بناکر وہاں دکانیں نکال دی گئی ہیں اور اس عمل کے ذریعے سبزی منڈی،یہاں کام کرنے والے کاروباریوں اور آنے والے خریداروں کی زندگیوں کو داو ¿ پر لگا دیا گیا ہے۔

سبزی منڈی میں یومیہ ہزاروں افراد کی آمد و رفت ہوتی ہے جبکہ یہاں کام کرنے والے افراد کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے،سبزی منڈی میں بڑی مقدار میں لکڑی اور بھوسہ موجود ہونے کے باعث آتشزدگی کے کسی بھی واقعہ کی صورت میں بھاری مالی و جانی نقصان کا خدشہ ہے،حال ہی میں سبزی منڈی کے سبزی سیکشن میں بجلی کے کنڈوں کے باعث آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا،تاہم خوش قسمتی سے کوئی بڑا مالی یا جانی نقصان نہیں ہوا۔

سانحہ گل پلازہ کے بعد چیف سیکریٹری کی ہدایت پر شہر بھر کی تمام سرکاری عمارتوں،جیلوں،بس ٹرمینلز اور دیگر عوامی مقامات پر فائر سیفٹی آڈٹ کو یقینی بنانے کیلئے اسسٹنٹ کمشنرز کی 140ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں،تاہم اس تمام عمل میں سبزی منڈی کو نظر انداز کیا گیا ہے جہاں روزانہ ہزاروں افراد کی آمد و رفت ہوتی ہے اور جہاں ماسٹر لے آؤٹ پلان سے فائر اسٹیشن کو ہی غائب کردیا گیا ہے۔

سبزی منڈی کے تاجروں نے اس ضمن میں متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ماسٹر لے آؤٹ پلان میں فائر اسٹیشن کیلئے مختص جگہ پر قبضہ کا نوٹس لیا جائے،فائر اسٹیشن کی جگہ پر دکانیں بنا کر سبزی منڈی میں کاروبار کرنے والوں اور خریداروں کی زندگیاں داو پر لگانے والوں کا کڑا احتساب کیا جائے اور بلاک اے ایف ون میں فوری طور پر دکانوں کی جگہ فائر اسٹیشن تعمیر کیا جائے تا کہ آتشزدگی کے کسی بھی ناگہانی واقعہ کی صورت میں تاجروں کی جان و مال اور عام افراد کی زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے-

عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں فائر اسٹیشن کیلئے مختص آتشزدگی کے کسی بھی ماسٹر لے آو ٹ پلان واقعہ کی صورت میں میں سبزی منڈی سبزی منڈی میں افراد کی گئی ہیں جگہ پر کی جگہ

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف