سبزی منڈی میں فائر اسٹیشن کیلئے مختص جگہ پر قبضہ کرکے دکانیں بنانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری) سانحہ گل پلازا کے بعد جہاں کراچی کی متعدد مارکیٹس و شاپنگ سینٹرز سمیت عوامی مقامات پر آگ بجھانے کے انتظامات کے حوالے سے سوالیہ نشان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں،وہیں یہ سنگین انکشاف بھی ہوا ہے کہ سپر ہائیوے پر قائم سبزی منڈی میں ماسٹر لے آؤٹ پلان میں فائر اسٹیشن کیلئے مختص جگہ پر قبضہ کرکے دکانیں بنا دی گئی ہیں،جس کے بعد آتشزدگی کے کسی بھی ناگہانی واقعہ کی صورت میں سبزی منڈی اور ہزاروں قیمتی جانیں داو پر لگ گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 14فروری2005کو اس وقت کے سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے دور میں سبزی منڈی کے منظور کردہ ماسٹر لے آوٹ پلان میں فائر اسٹیشن کیلئے 4800اسکوائر فیٹ کی جگہ مختص کی گئی تھی،فائر اسٹیشن کیلئے جگہ مختص کرنے کا مقصد سبزی منڈی میں آتشزدگی کے کسی بھی ناگہانی واقعہ کی صورت میں فوری ریلیف فراہم کرنا تھا،تا کہ سبزی منڈی میں قیمتی املاک اور کسی بھی جانی نقصان سے محفوظ رہا جاسکے۔
نعمت اللہ خان کے دور میں ہی ایمر جنسی کیلئے سبزی منڈی میں ہمہ وقت ایک فائر بریگیڈ کی گاڑی بھی موجود رہتی تھی،تاہم مارکیٹ کمیٹی کی مبینہ عدم دلچسپی، عدم تعاون اور سہولیات فراہم نہ کرنے کے باعث یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔سبزی منڈی کا مجموعی رقبہ 94ایکڑ سے زائد ہے،جہاں ماسٹر لے آو ٹ پلان کے مطابق 4135دکانوں کی جگہ نکالی گئی تھیں،تاہم سبزی منڈی میں ماسٹر لے آو ¿ٹ پلان کے دھجیاں اڑا دی گئیں اور اس وقت سبزی منڈی میں 6500سے زائد دکانیں موجود ہیں،اپریل 2007کو مارکیٹ کمیٹی نے سبزی منڈی کا نظر ثانی ماسٹر لے آو ٹ پلان جاری کیا تھا جو کہ مسترد کردیا گیا تھا۔
سبزی منڈی میں فائر اسٹیشن کیلئے مختص 4800اسکوائر فیٹ کی جگہ پر مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے بلاک اے ایف ون بناکر وہاں دکانیں نکال دی گئی ہیں اور اس عمل کے ذریعے سبزی منڈی،یہاں کام کرنے والے کاروباریوں اور آنے والے خریداروں کی زندگیوں کو داو ¿ پر لگا دیا گیا ہے۔
سبزی منڈی میں یومیہ ہزاروں افراد کی آمد و رفت ہوتی ہے جبکہ یہاں کام کرنے والے افراد کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے،سبزی منڈی میں بڑی مقدار میں لکڑی اور بھوسہ موجود ہونے کے باعث آتشزدگی کے کسی بھی واقعہ کی صورت میں بھاری مالی و جانی نقصان کا خدشہ ہے،حال ہی میں سبزی منڈی کے سبزی سیکشن میں بجلی کے کنڈوں کے باعث آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا،تاہم خوش قسمتی سے کوئی بڑا مالی یا جانی نقصان نہیں ہوا۔
سانحہ گل پلازہ کے بعد چیف سیکریٹری کی ہدایت پر شہر بھر کی تمام سرکاری عمارتوں،جیلوں،بس ٹرمینلز اور دیگر عوامی مقامات پر فائر سیفٹی آڈٹ کو یقینی بنانے کیلئے اسسٹنٹ کمشنرز کی 140ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں،تاہم اس تمام عمل میں سبزی منڈی کو نظر انداز کیا گیا ہے جہاں روزانہ ہزاروں افراد کی آمد و رفت ہوتی ہے اور جہاں ماسٹر لے آؤٹ پلان سے فائر اسٹیشن کو ہی غائب کردیا گیا ہے۔
سبزی منڈی کے تاجروں نے اس ضمن میں متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ماسٹر لے آؤٹ پلان میں فائر اسٹیشن کیلئے مختص جگہ پر قبضہ کا نوٹس لیا جائے،فائر اسٹیشن کی جگہ پر دکانیں بنا کر سبزی منڈی میں کاروبار کرنے والوں اور خریداروں کی زندگیاں داو پر لگانے والوں کا کڑا احتساب کیا جائے اور بلاک اے ایف ون میں فوری طور پر دکانوں کی جگہ فائر اسٹیشن تعمیر کیا جائے تا کہ آتشزدگی کے کسی بھی ناگہانی واقعہ کی صورت میں تاجروں کی جان و مال اور عام افراد کی زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے-
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں فائر اسٹیشن کیلئے مختص آتشزدگی کے کسی بھی ماسٹر لے آو ٹ پلان واقعہ کی صورت میں میں سبزی منڈی سبزی منڈی میں افراد کی گئی ہیں جگہ پر کی جگہ
پڑھیں:
نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان
گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔
جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ
یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔
کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔
مزید :