ناروے کے وزیراعظم یوناس گار اسٹورے کا کہنا ہے کہ ناروے کی کراؤن پرنسز میٹے مارٹ نے امریکی مجرم جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے میں غلط فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی شاہی خاندان کی سابق رکن سارہ فرگوسن آسٹریلیا جانے کی خواہشمند لیکن سانپوں کا خوف آڑے

یہ بیان ایپسٹین کے تازہ دستاویزات میں ان کے تعلقات کے حوالے سے رپورٹس کے بعد سامنے آیا۔

نئی فائلز میں سنہ 2008 میں ایپسٹین کو بچوں کے خلاف جنسی جرائم کا مجرم قرار دیے جانے کے بعد میٹے مارٹ اور ایپسٹین کے درمیان ای میل مراسلت شامل ہے۔

کراؤن پرنسز کی معذرت

ناروے کے ولی عہد ہاکون کی شریک حیات میٹے مارٹ نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ایپسٹین کے ساتھ روابط برقرار رکھنے میں غلط فہمی دکھائی اور اس پر معذرت خواہ ہیں۔

ناروے کے وزیراعظم یوناس گار اسٹورے۔

وزیراعظم اسٹورے نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ میں ان کے الفاظ استعمال کر رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ (میٹے) کہتی ہیں کہ انہوں نے غلط فیصلہ کیا۔ میں اس سے متفق ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میٹے مارٹ اور دیگر نمایاں ناروے کے شہری، جو تازہ ایپسٹین دستاویزات میں شامل ہیں، کو چاہیے کہ وہ اپنی شمولیت کی تفصیلات فراہم کریں۔

مزید پڑھیے: کیا 11 سالہ شہزادی شارلٹ سب سے پر اعتماد کم عمر شاہی شخصیت بنتی جا رہی ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ظاہر ہوا ہے کہ نئی معلومات نے اس معاملے پر پہلے سے زیادہ روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاید یہ کہنا مناسب ہو کہ انہیں اپنے روابط کی نوعیت واضح کرنی چاہیے۔

سخت ذاتی ذمہ داری کا اعتراف

میٹے مارٹ نے رائل پیلس کے ذریعے رائٹرز کو بتایا کہ میں اس کی ذمہ داری لیتی ہوں کہ میں نے ایپسٹین کی پچھلی سرگرمیوں کی مکمل تحقیق نہیں کی اور وقت پر یہ نہیں پہچانا کہ وہ کس قسم کا انسان تھا اور میں اس پر گہری معذرت کرتی ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے غلط فیصلہ کیا اور ایپسٹین کے ساتھ کوئی بھی رابطہ رکھنے پر شرمندہ ہوں۔

ملکی اور خاندانی پس منظر

ناروے کا شاہی خاندان عمومی طور پر لو پروفائل رہتا ہے اور ناروے کے 5.

6 ملین عوام میں کافی مقبول ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق 70 فیصد ناروے کے شہری شاہی خاندان کے نظام کی حمایت کرتے ہیں اگرچہ یہ سروے ایپسٹین دستاویزات کے شائع ہونے سے پہلے کیا گیا تھا۔

شاہی خاندان کے دیگر مسائل

شاہی خاندان نے حالیہ برسوں میں کئی مسائل کا سامنا کیا ہے۔ 88  سالہ کنگ ہیرالڈ نے سنہ 2024 میں صحت کے مسائل کے بعد سرگرمیاں محدود کیں۔

مزید پڑھیں: اسپین کی مستقبل کی ملکہ لیونور کی فوجی تربیت کے آخری مرحلے کا آغاز

میٹے مارٹ کو سنہ 2018 میں پلمونری فائبروسس کی تشخیص ہوئی اور انہیں پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہے۔

کنگ ہیرالڈ کی بیٹی مارٹھا لُوئز نے سنہ 2022 میں سرکاری شاہی فرائض سے استعفیٰ دیا اور کہا کہ وہ اپنے تجارتی منصوبوں میں پرنسز کا خطاب استعمال نہیں کریں گی۔

کراؤن پرنسز میٹے مارٹ کے ایپسٹین کے ساتھ تعلقات اور ان کی معذرت نے ناروے میں شاہی خاندان کی موجودہ مشکلات کو مزید نمایاں کر دیا ہے جبکہ وزیراعظم نے واضح کیا کہ تمام متعلقہ افراد کو اپنی شمولیت اور روابط کی تفصیلات دینے کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شہزادی میٹے مارٹ ناروے ناروے کی مستقبل کی ملکہ ناروے کے وزیراعظم یوناس گار اسٹورے

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شہزادی میٹے مارٹ ناروے شاہی خاندان ایپسٹین کے میٹے مارٹ ناروے کے انہوں نے کہا کہ کہ میں

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا