ناروے کے ولی عہد کی اہلیہ میٹے مارٹ کے جیفری ایپسٹین سے تعلقات پر وزیراعظم کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
ناروے کے وزیراعظم یوناس گار اسٹورے کا کہنا ہے کہ ناروے کی کراؤن پرنسز میٹے مارٹ نے امریکی مجرم جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے میں غلط فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی شاہی خاندان کی سابق رکن سارہ فرگوسن آسٹریلیا جانے کی خواہشمند لیکن سانپوں کا خوف آڑے
یہ بیان ایپسٹین کے تازہ دستاویزات میں ان کے تعلقات کے حوالے سے رپورٹس کے بعد سامنے آیا۔
نئی فائلز میں سنہ 2008 میں ایپسٹین کو بچوں کے خلاف جنسی جرائم کا مجرم قرار دیے جانے کے بعد میٹے مارٹ اور ایپسٹین کے درمیان ای میل مراسلت شامل ہے۔
کراؤن پرنسز کی معذرت
ناروے کے ولی عہد ہاکون کی شریک حیات میٹے مارٹ نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ایپسٹین کے ساتھ روابط برقرار رکھنے میں غلط فہمی دکھائی اور اس پر معذرت خواہ ہیں۔
وزیراعظم اسٹورے نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ میں ان کے الفاظ استعمال کر رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ (میٹے) کہتی ہیں کہ انہوں نے غلط فیصلہ کیا۔ میں اس سے متفق ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میٹے مارٹ اور دیگر نمایاں ناروے کے شہری، جو تازہ ایپسٹین دستاویزات میں شامل ہیں، کو چاہیے کہ وہ اپنی شمولیت کی تفصیلات فراہم کریں۔
مزید پڑھیے: کیا 11 سالہ شہزادی شارلٹ سب سے پر اعتماد کم عمر شاہی شخصیت بنتی جا رہی ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ظاہر ہوا ہے کہ نئی معلومات نے اس معاملے پر پہلے سے زیادہ روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاید یہ کہنا مناسب ہو کہ انہیں اپنے روابط کی نوعیت واضح کرنی چاہیے۔
سخت ذاتی ذمہ داری کا اعترافمیٹے مارٹ نے رائل پیلس کے ذریعے رائٹرز کو بتایا کہ میں اس کی ذمہ داری لیتی ہوں کہ میں نے ایپسٹین کی پچھلی سرگرمیوں کی مکمل تحقیق نہیں کی اور وقت پر یہ نہیں پہچانا کہ وہ کس قسم کا انسان تھا اور میں اس پر گہری معذرت کرتی ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے غلط فیصلہ کیا اور ایپسٹین کے ساتھ کوئی بھی رابطہ رکھنے پر شرمندہ ہوں۔
ملکی اور خاندانی پس منظرناروے کا شاہی خاندان عمومی طور پر لو پروفائل رہتا ہے اور ناروے کے 5.
شاہی خاندان نے حالیہ برسوں میں کئی مسائل کا سامنا کیا ہے۔ 88 سالہ کنگ ہیرالڈ نے سنہ 2024 میں صحت کے مسائل کے بعد سرگرمیاں محدود کیں۔
مزید پڑھیں: اسپین کی مستقبل کی ملکہ لیونور کی فوجی تربیت کے آخری مرحلے کا آغاز
میٹے مارٹ کو سنہ 2018 میں پلمونری فائبروسس کی تشخیص ہوئی اور انہیں پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہے۔
کنگ ہیرالڈ کی بیٹی مارٹھا لُوئز نے سنہ 2022 میں سرکاری شاہی فرائض سے استعفیٰ دیا اور کہا کہ وہ اپنے تجارتی منصوبوں میں پرنسز کا خطاب استعمال نہیں کریں گی۔
کراؤن پرنسز میٹے مارٹ کے ایپسٹین کے ساتھ تعلقات اور ان کی معذرت نے ناروے میں شاہی خاندان کی موجودہ مشکلات کو مزید نمایاں کر دیا ہے جبکہ وزیراعظم نے واضح کیا کہ تمام متعلقہ افراد کو اپنی شمولیت اور روابط کی تفصیلات دینے کی ضرورت ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شہزادی میٹے مارٹ ناروے ناروے کی مستقبل کی ملکہ ناروے کے وزیراعظم یوناس گار اسٹورے
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شہزادی میٹے مارٹ ناروے شاہی خاندان ایپسٹین کے میٹے مارٹ ناروے کے انہوں نے کہا کہ کہ میں
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔