اسلام آباد میں جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس کیلیے نئی ویلیو ایشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسلام آباد:
ایف بی آر نے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں جائیداد کی خریدوفروخت پر ٹیکس وصولی کے لیے پراپرٹی کی نظر ثانی شدہ ویلیو ایشن جاری کردی ہیں۔
ایف بی آر نے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جاری کردہ نظر ثانی شدہ ویلیو ایشن کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق اسلام آباد میں پانچ سال تک پرانے رہائشی و کمرشل سپر اسٹرکچر کی ویلیو ایشن تین ہزار روپے فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے جبکہ پانچ سال سے زائد رہائشی و کمرشل سپر اسٹرکچر کی ویلیو ایشن ڈیڑھ ہزار روپے فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔
مزید پڑھیںاسلام آباد؛ جائیداد پر ٹیکس وصولی کیلئے مقررہ نئی ویلیو ایشن معطل
اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹوری کے دیہی علاقوں میں جائیداد کی ویلیو ایشن یکم جولائی 2025 کوایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ریونیو)ڈسٹرکٹ کلکٹر اسلام آباد کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ہونگے، البتہ جہاں متنازعہ ویلیو ایشن ریٹ ہونگے وہاں ایف بی آر اور ڈی سی ریٹ میں سے جو زیادہ ہوگا وہ لاگو ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز کے لیے رہائشی و کمرشل پلاٹس، مکانات، اپارٹمنٹس اور فلیٹس کی الگ الگ ویلیو ایشن مقرر کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ویلیو ایشن اسلام آباد
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔