کراچی کے علاقے صدر میں مارکیٹ میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
کراچی کے علاقے صدر میں واقع النجیبی سینٹر میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا۔ ریسکیو حکام نے عمارت سے تمام افراد کو باہر نکال لیا، جبکہ ایک شخص دھوئیں کے باعث بیہوش ہوگیا جسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ آگ ایک گاڑی میں لگی جس نے ساتھ کھڑی دو گاڑیوں کو لپیٹ میں لیا تھا۔
فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ فائربریگیڈ کی 3 گاڑیوں نے آگ پر قابو پانے کیلئے کارروائی کی۔
ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ عمارت میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کےلیے اسنارکل طلب کی گئی۔
ترجمان ریسکیو 1122 نے بتایا کہ آگ نے متعدد گاڑیوں کو لپیٹ میں لے لیا تھا، آگ عمارت کے ساتویں فلور پر لگی، جہاں گاڑیوں کی پارکنگ ہے۔ ریسکیو ٹیم عمارت میں داخل ہوئی اور وہاں موجود تمام افراد کو باہر نکال لیا۔
ڈی ایس پی صدر لیاقت حیات نے کا کہنا ہے کہ النجیبی سینٹر میں لگنے والی اگ مکمل بجھا دی گئی ہے، آتش زدگی سے تین گاڑیاں متاثر ہوئیں، اگ لگنے کے بعد بلڈنگ میں موجود افراد کو باحفاظت نکال لیا گیا۔
اس سے قبل مارکیٹ میں آگ لگنے کے واقعے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ہدایات جاری کیں کہ عوامی جان و مال کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے ریسکیو حکام کو ریسکیو آپریشن مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ کوشش کی جا رہی ہے آگ پر جلد ازجلد قابو پالیا جائے۔ آگ بجھانے کےلیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
قبل ازیں ایسوسی ایشن عہدے دار عمر عارف کا کہنا تھا کہ عمارت میں کچھ لوگوں کے پھنسے ہونے کی اطلاع ہے۔
انہوں نے بتایا تھا کہ آگ عمارت کے ساتویں فلور کی پارکنگ میں ایک گاڑی میں لگی تھی جس نے دوسری گاڑیوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔
ایسوسی ایشن عہدیدار کا کہنا تھا کہ 15 منزلہ عمارت سے لوگوں کو نکالا جارہا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کرلی
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے علاقے صدر کی مارکیٹ میں لگی آگ سے متعلق کمشنر سے رپورٹ طلب کرلی۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفط حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ آتشزدگی کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ میں لگی تھا کہ
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔