قبرستانوں تک جانے والے راستے کو ہموار اور صاف ستھرا بنایا جائے‘ میئر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ہدایت کی ہے کہ شب برأت کے موقع پر شہری اپنے عزیز و اقارب کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے دوران کسی قسم کی دقت یا رکاوٹ کا سامنا نہ کریں، انہوں نے کہا کہ قبرستانوں تک جانے والے راستوں کو ہموار اور صاف ستھرا بنایا جائے۔ قبرستانوں کو سیوریج کے پانی اور گندگی سے پاک رکھا جائے اور قبرستانوں کے اندر و باہر صفائی، روشنی اور پانی کی مناسب سہولیات فراہم کی جائیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ شب برأت کے دن تمام میونسپل عملہ قبرستانوں میں موجود رہے گا تاکہ شہریوں کو کسی بھی قسم کی پریشانی نہ ہو اور ان کے مسائل کا فوری حل یقینی بنایا جا سکے جہاں ضرورت ہو، وہاں اضافی اقدامات کیے جائیں گے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں سیوریج کے پانی یا گندگی کے مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی بڑی تعداد شب برأت کے موقع پر قبرستانوں میں جاتی ہے لہٰذا انہیں مناسب سہولت فراہم کرنا بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ کے ایم سی اپنے زیرانتظام قبرستانوں میں شب برأت کے حوالے سے مکمل انتظامات کر رہی ہے اور پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ شہریوں کو بہترین سہولیات میسر ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شب برا ت کے
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔