کوٹری میں تین کروڑ روپے کی گیس چوری کی واردات پکڑی گئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوٹری(جسارت نیوز)کوٹری میں تین کروڑ روپے کی گیس چوری کی بڑی واردات پکڑی گئی۔گیس حکام کی کوٹری گلشن شہباز میں غیرقانونی گیس کنکشن کیخلاف کاروائی۔سینکڑوں غیرقانونی کنکشن منقطع کرکے پائپ اور کلپ ضبط کرلئے گئے۔گیس چوروں کیخلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔ذونل منیجر کوٹری ایاز جھکرانی۔تفصلات کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی کے ذونل منیجر ایاز جھکرانی نے ٹیم کے ہمراہ کوٹری گلشن شہباز میں کاروائی کرتے ہوئے جامشورو سے کوٹری جانے والی 8,انچ لائن سے درجنوں غیرقانونی کنکشن منقطع کردیئے ہیں۔گیس حکام نے غیر قانونی کنکشن کے ہزاروں فٹ ربڑ پائپ اور کلپ بھی ضبط کرلیئے ہیں۔اس ضمن میں ذونل منیجر ایاز جھکرانی نے بتایا کہ گیس چوری کی مد میں کمپنی کو سالانہ تین کروڑ کا نقصان کا سامنا تھا۔اتنے بڑے علاقہ میں صرف 60 صارف میٹر پر گیس استعمال کررہے ہیں جبکہ دو ہزار رہائشی گھر موجود ہیں جوکہ گیس چوری کررہے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گیس چوری
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔