میرپورخاص، حساس اداروں کے نام پرلوٹ مار کرنیوالے ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص(جسارت نیوز) حساس اداروں کے نام پر شہریوں کو بلیک میل کرنے کے مقدمے میں گرفتار 2 ملزمان پولیس نے عدالت میں پیش کر دیئے، عدالت نے دونوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، سماعت 7 فروری تک ملتوی تفصیلات کے مطابق حساس اداروں کے نام پر لوگوں سے فراڈ کرنے والے دو گرفتار ملزمان رضا رند اور ہمایوں مصطفیٰ گجر کو پولیس فرسٹ سول جج اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر دیا عدالت نے ملزمان کو 7 فروری تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ملزمان علی رضا رند اور ہمایوں مصطفی گجر نے اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ وہ حساس اداروں، پولیس اور دیگر سرکاری افسران اور سیاسی شخصیات کے نام پر شہریوں کو نوکریاں دلانے، میڈیکل ٹیسٹ پاس کرنے، تعلیمی بورڈ سے زیادہ نمبر لینے، سرکاری افسران کو ڈرا دھمکا کر ٹھیکے حاصل کرنے اور حساس اداروں کے اہلکاروں کی تصاویر لینے کا اعتراف کیا انھوں نے بتایا کہ گروپ لیڈر کی فلک شیر ہے جو ایوان صحافت کے سینئر رکن ہے اور اس گروپ میں عمران ملک اور ہم دونوں شامل ہیں انھوں نے انکشاف کیا کہ وہ ایوان صحافت سے وابستہ کچھ صحافیوں کو ان کے کہنے پر ارسلان نامی حساس ادارے کا افسر ظاہر کر کے بلیک میل کرتے تھے علی رضا رند اور عمران ملک اس کے ساتھ تھے اور وہ ہماری سرپرستی میں ایوان صحافت کے سینئر رکن فلک شیر بلیک میل کرتا تھا ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے پراونشل ہائی وے کے ایکشن تاج محمد راہموں سمیت دیگر افسران کو ہراساں کیا اور حساس اداروں کے نام پر دو پرائیویٹ کمپنیوں کو ٹھیکے دلوائے جبکہ وہ ایسے تمام کام ایوان صحافت کے صحافیوں کی ہدایت پر کرتے تھے انھوں نے بتایا کہ فلک شیر انہیں اہلکاروں کے موبائل فونز کا سی ڈی آر اور حساس ڈیٹا فراہم کرتا تھا جو کہ بعد میں علی رضا رند کو پہنچا دیا گیا ملزمان کا مزید کہنا تھا کہ ان کا موبائل نمبر حیدرآباد میں تعینات حساس ادارے کے افسر کا نمبر دکھایا گیا ایکسیئن تاج محمد راہموں کا سی ڈی آر اور دیگر ڈیٹا دکھانے کے بعد انہیں بتایا گیا کہ حساس ادارے ان کے پیچھے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں ہراساں کیا گیا اور دو سرکاری ٹھیکے حاصل کئے گئے جو کہ ٹھیکیدار شوکت اور ایم ایس سعید کے نام تھے ہمایوں مصطفیٰ گجر نے الزام لگایا کہ فلک شیر، عمران ملک اور علی رضا رند سمیت ایوان صحافت سے وابستہ صحافیوں نے انہیں استعمال کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ایک حساس ادارے کا افسر ہے جو ملازمین کو بھیج کر بلیک میل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا ان کا مزید کہنا تھا کہ میڈیکل ٹیسٹ پاس کرنے کے نام پر امیدوار سے 5 لاکھ روپے لیے گئے جبکہ ایک نجی نیوز چینل کے سی ای او کو بھی فون کر کے علی رضا رند کو بطور رپورٹر بحال کرنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا ہمایوں مصطفیٰ گجر نے کہا کہ میں نے جتنے بھی جرائم کئے ہیں اس کا عدالت میں اعتراف کیا ہے جبکہ رضا رند نے بتایا کہ میں نے تعلیمی بورڈ سے پیسوں کے عوض ایک ہزار سے زائد طلباء کو زیادہ نمبر لے کر دینے ہیں جن سے حاصل ہونے والی رقم میں سے آدھی رقم تعلیمی بورڈ کے کنٹرولر کو دیتے تھے اور باقی آپس میں بانٹ لیتے تھے یہ کام فلک شیر کرتا تھا اور فلک شیر تمام غلط کاموں کی سرپرستی کرتا تھا فلک شیر نے مجھے کہا کہ کسی حساس ادارے کے اہلکار کی نماز جنازہ میں جاؤ اور وہاں موجود حساس اداروں کے افسران کی تصاویر لے کر مجھے بھیج دو میں نے فلک شیر کو تصاویر بھیج دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حساس اداروں کے نام پر ہمایوں مصطفی ایوان صحافت علی رضا رند بلیک میل کرتا تھا فلک شیر کرنے کے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔