Jasarat News:
2026-07-24@02:42:11 GMT

حکومت آئی ایم ایف کی ہدایت پر شرح سود میں کمی نہیں کررہی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260203-01-20
کراچی (رپورٹ: قاضی جاوید) حکومت آئی ایم ایف کی ہدایت پر شرح سود میں کمی نہیں کررہی‘پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں ایک سال قبل ہی آجانا چاہیے تھا‘تجارتی خسارہ بڑھ کر 19.204 ارب ڈالر ہو گیا ‘زرمبادلہ کے ذخائرزیادہ تر قرضوں پر مشتمل ہیں ‘ بلند شرحِ سود اور ناقابلِ برداشت توانائی قیمتوں کیساتھ عالمی منڈی میں مقابلہ ممکن نہیں، غیرملکی سرمایہ کارہی نہیں ،مقامی بھی بھاگ رہے ہیں۔ ’’حکومت کی جانب سے شاندار معاشی دعوؤں کے باوجود شرح سود میںکمی کیوں نہیں کی جارہی ہے؟‘‘ کے سوال کے جواب میں یو جی بی کے سر بربراہ زبیر طفیل نے کہا کہ شرح سود میں کمی نہ کرنا صنعتی شعبے کے لیے نقصان دہ ہے‘ کم شرح سود سے ایس ایم ایز کے لیے فنانسنگ تک رسائی ممکن ہوسکتی ہے‘ شرح سود میں کمی ایک سال قبل ہوجانی چاہیے تھی‘ لیکن محسوس یہی ہو رہا ہے آئی ایم ایف شرح سود کم نہیں ہونے دے رہی‘ پاکستان کی امریکا کو برآمدات میں مسلسل تیسرے ماہ کمی ریکارڈ کی گئی‘ پاکستان کی امریکا کو برآمدات میں مسلسل تیسرے ماہ کمی ریکارڈ کی گئی دسمبر میں درآمدات میں2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 6.

022 ارب ڈالر ہو گیا، جس کے نتیجے میں ماہانہ تجارتی خسارہ بڑھ کر 3.705 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ سال اسی ماہ میں 2.993 ارب ڈالر تھا۔ مالی سال 2025-26ء کے پہلے 6 ماہ (جولائی تا دسمبر)کے دوران پاکستان کی مجموعی برآمدات 15.184 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال اسی مدت میں16.631 ارب ڈالر تھیں جس کے مطابق برآمدات میں 8.70 فیصد کمی ہوئی‘ اسی عرصے میں درآمدات میں 11.28 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 34.388 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، یوں مجموعی تجارتی خسارہ بڑھ کر 19.204 ارب ڈالر ہو گیا جو گزشتہ سال 14.271 ارب ڈالرکے مقابلے میں 34.57 فیصد زیادہ ہے۔معروف تاجر رہنما اور اسلام چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے کہنے پر شرح سود میں کمی نہ کر ملکی معیشت کو تباہ کر رہی ہے‘ منفی پالیسیوں نے عوام کی کمر توڑ ڈالی ہے جبکہ کاروباری برادری کی امیدیں خاک میں مل گئی ہیں‘ ماہرین اور نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں‘ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا رخ نہیں کر رہے ہیں جبکہ مقامی سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں‘ اشرافیہ کی لوٹ مار کا بوجھ عوام پر ڈالنے کا سلسلہ بند کیاجائے اور پاکستان کو ناقابل سرمایہ کاری ملک بننے سے روکنے کے لیے سنجیدہ اور دیرپا اصلاحات کی جائیں تاکہ کاروباری افراد اعتماد بحال ہو سکے۔ شاہد رشید بٹ نے کہا کہ جولائی سے دسمبر تک ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 43.3 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ پورٹ فولیو سرمایہ کاری منفی225.1 ملین ڈالر رہی جو گزشتہ سال اسی مدت میں منفی 221.8 ملین امریکی ڈالر تھی یہ اعداد و شمار سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد کی واضح عکاسی کرتے ہیں‘ مالی سال 2026ء کی پہلی ششماہی کے دوران برآمدات میں 5 فیصد کمی آئی جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ کر 1.174 ارب ڈالر ہو گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں زیادہ ہے۔اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر 21.3 ارب ڈالر ہیں جن میں سے 16.1 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس ہیں جس کا بڑا حصہ قرضوں پر مشتمل ہے جو مستقبل کے لیے تشویشناک صورتحال ہے۔ انہوں نے زرعی شعبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں زرعی نمو2.9 فیصد رہی جو گزشتہ سال 1.0 فیصد تھی تاہم اہم فصلوں میں گندم کے علاوہ 0.7 فیصد کمی آئی۔ کپاس کی پیداوار میں 1.2 فیصد کمی، سبز چارے کی پیداوار میں 14.4 فیصد کمی اور کھاد کی قیمتوں میں 13 فیصد اضافہ اور کسانوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کر رہا ہے‘ جولائی سے جنوری تک نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی صرف 578.4 ارب روپے رہی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 1.520 کھرب روپے تھی جو نجی شعبے کی کمزور حالت اور سرمایہ کاری میں جمود کو ظاہر کرتی ہے‘ پالیسیوں میں فوری اصلاحات کے بغیر معاشی بحالی ممکن نہیں۔ معروف صنعتکا راور ایف پی سی سی آئی رہنما میاں زاہد حسین نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے کاروباری لاگت میں کمی ناگزیر ہے لیکناس کے برعکس شرح سود میں کمی نہیں جا رہی اس سے برآمدآت میں کمی ہو رہی ہے‘ ایل ایس ایم اور زرعی نمو میں استحکام سے ترقی کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے‘ پائیدارمعاشی ترقی کے لیے فوری طور پرکاروباری لاگت میں کمی ناگزیرہے‘ جنوری میں مہنگائی کی شرح 5 تا 6 فیصد تک آنے کا امکان موجودہ حکومت کی مالی نظم وضبط اور بہتر پالیسیوں کا ثبوت ہے‘ پہلے 5 ماہ میں جی ڈی پی کا 0.8 فیصد مجموعی مالیاتی سرپلس گزشتہ خساروں کے مقابلے میں ایک نمایاں کامیابی ہے جبکہ بڑی صنعتوں میں6 فیصد اضافہ اور زرعی شعبے کی 2.9 فیصد ترقی حوصلہ افزا ہے۔اسٹیٹ بینک نے مالی سال 26-2025ء کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 3.75 تا 4.75 فیصد تک بڑھایا ہے، تاہم ان اہداف کے حصول کا دارومدارشرحِ سود میں کمی پرہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہرکیا کہ پہلی ششماہی میں غیرملکی سرمایہ کاری میں 43.3 فیصد کمی تشویش ناک ہے جس کی بنیادی وجہ خطے کے مقابلے میں مہنگی توانائی اور زیادہ شرحِ سود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار ہونے کے باوجود افراطِ زر 5 فیصد کے آس پاس ہونے کے باعث شرحِ سود کو سنگل ڈیجٹ تک لانے کے لیے مناسب فضا موجود ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ نجی شعبہ معاشی بحالی میں اپنا بھرپور کردارادا کر رہا ہے مگر بلند شرحِ سود اورناقابلِ برداشت توانائی قیمتوں کے ساتھ عالمی منڈی میں مقابلہ ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں برآمدات میں 9 فیصد کمی زر مبادلہ کے ذخائر اور حکومت کے اڑان پاکستان پروگرام کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ پچھلی ششماہی میں آئی ٹی برآمدات اورترسیلاتِ زر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کوسہارا دینے والے اہم عوامل رہے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ حکومت کواب استحکام سے ترقی کے مرحلے میں داخل ہونا ہوگا اورمالیاتی گنجائش کوصنعتی ویلیوایڈیشن اورٹیکس نیٹ کی توسیع میں استعمال کیا جائے نہ کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ایسا پالیسی فریم ورک مرتب کیا جائے جو توانائی نرخوں اور مالیاتی لاگت کوکم کرکے صنعتی و معاشی تیز رفتاری کو یقینی بنائے، جس کا فائدہ عام آدمی اور صنعت دونوں کو ملے۔

قاضی جاوید سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ارب ڈالر ہو گیا گزشتہ سال اسی کے مقابلے میں جو گزشتہ سال خسارہ بڑھ کر برا مدات میں سرمایہ کاری ا ئی ایم ایف فیصد اضافہ نے کہا کہ انہوں نے فیصد کمی مالی سال رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف