data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260203-01-20
کراچی (رپورٹ: قاضی جاوید) حکومت آئی ایم ایف کی ہدایت پر شرح سود میں کمی نہیں کررہی‘پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں ایک سال قبل ہی آجانا چاہیے تھا‘تجارتی خسارہ بڑھ کر 19.204 ارب ڈالر ہو گیا ‘زرمبادلہ کے ذخائرزیادہ تر قرضوں پر مشتمل ہیں ‘ بلند شرحِ سود اور ناقابلِ برداشت توانائی قیمتوں کیساتھ عالمی منڈی میں مقابلہ ممکن نہیں، غیرملکی سرمایہ کارہی نہیں ،مقامی بھی بھاگ رہے ہیں۔ ’’حکومت کی جانب سے شاندار معاشی دعوؤں کے باوجود شرح سود میںکمی کیوں نہیں کی جارہی ہے؟‘‘ کے سوال کے جواب میں یو جی بی کے سر بربراہ زبیر طفیل نے کہا کہ شرح سود میں کمی نہ کرنا صنعتی شعبے کے لیے نقصان دہ ہے‘ کم شرح سود سے ایس ایم ایز کے لیے فنانسنگ تک رسائی ممکن ہوسکتی ہے‘ شرح سود میں کمی ایک سال قبل ہوجانی چاہیے تھی‘ لیکن محسوس یہی ہو رہا ہے آئی ایم ایف شرح سود کم نہیں ہونے دے رہی‘ پاکستان کی امریکا کو برآمدات میں مسلسل تیسرے ماہ کمی ریکارڈ کی گئی‘ پاکستان کی امریکا کو برآمدات میں مسلسل تیسرے ماہ کمی ریکارڈ کی گئی دسمبر میں درآمدات میں2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 6.
022 ارب ڈالر ہو گیا، جس کے نتیجے میں ماہانہ تجارتی خسارہ بڑھ کر 3.705 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ سال اسی ماہ میں 2.993 ارب ڈالر تھا۔ مالی سال 2025-26ء کے پہلے 6 ماہ (جولائی تا دسمبر)کے دوران پاکستان کی مجموعی برآمدات 15.184 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال اسی مدت میں16.631 ارب ڈالر تھیں جس کے مطابق برآمدات میں 8.70 فیصد کمی ہوئی‘ اسی عرصے میں درآمدات میں 11.28 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 34.388 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، یوں مجموعی تجارتی خسارہ بڑھ کر 19.204 ارب ڈالر ہو گیا جو گزشتہ سال 14.271 ارب ڈالرکے مقابلے میں 34.57 فیصد زیادہ ہے۔معروف تاجر رہنما اور اسلام چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے کہنے پر شرح سود میں کمی نہ کر ملکی معیشت کو تباہ کر رہی ہے‘ منفی پالیسیوں نے عوام کی کمر توڑ ڈالی ہے جبکہ کاروباری برادری کی امیدیں خاک میں مل گئی ہیں‘ ماہرین اور نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں‘ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا رخ نہیں کر رہے ہیں جبکہ مقامی سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں‘ اشرافیہ کی لوٹ مار کا بوجھ عوام پر ڈالنے کا سلسلہ بند کیاجائے اور پاکستان کو ناقابل سرمایہ کاری ملک بننے سے روکنے کے لیے سنجیدہ اور دیرپا اصلاحات کی جائیں تاکہ کاروباری افراد اعتماد بحال ہو سکے۔ شاہد رشید بٹ نے کہا کہ جولائی سے دسمبر تک ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 43.3 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ پورٹ فولیو سرمایہ کاری منفی225.1 ملین ڈالر رہی جو گزشتہ سال اسی مدت میں منفی 221.8 ملین امریکی ڈالر تھی یہ اعداد و شمار سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد کی واضح عکاسی کرتے ہیں‘ مالی سال 2026ء کی پہلی ششماہی کے دوران برآمدات میں 5 فیصد کمی آئی جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ کر 1.174 ارب ڈالر ہو گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں زیادہ ہے۔اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر 21.3 ارب ڈالر ہیں جن میں سے 16.1 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس ہیں جس کا بڑا حصہ قرضوں پر مشتمل ہے جو مستقبل کے لیے تشویشناک صورتحال ہے۔ انہوں نے زرعی شعبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں زرعی نمو2.9 فیصد رہی جو گزشتہ سال 1.0 فیصد تھی تاہم اہم فصلوں میں گندم کے علاوہ 0.7 فیصد کمی آئی۔ کپاس کی پیداوار میں 1.2 فیصد کمی، سبز چارے کی پیداوار میں 14.4 فیصد کمی اور کھاد کی قیمتوں میں 13 فیصد اضافہ اور کسانوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کر رہا ہے‘ جولائی سے جنوری تک نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی صرف 578.4 ارب روپے رہی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 1.520 کھرب روپے تھی جو نجی شعبے کی کمزور حالت اور سرمایہ کاری میں جمود کو ظاہر کرتی ہے‘ پالیسیوں میں فوری اصلاحات کے بغیر معاشی بحالی ممکن نہیں۔ معروف صنعتکا راور ایف پی سی سی آئی رہنما میاں زاہد حسین نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے کاروباری لاگت میں کمی ناگزیر ہے لیکناس کے برعکس شرح سود میں کمی نہیں جا رہی اس سے برآمدآت میں کمی ہو رہی ہے‘ ایل ایس ایم اور زرعی نمو میں استحکام سے ترقی کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے‘ پائیدارمعاشی ترقی کے لیے فوری طور پرکاروباری لاگت میں کمی ناگزیرہے‘ جنوری میں مہنگائی کی شرح 5 تا 6 فیصد تک آنے کا امکان موجودہ حکومت کی مالی نظم وضبط اور بہتر پالیسیوں کا ثبوت ہے‘ پہلے 5 ماہ میں جی ڈی پی کا 0.8 فیصد مجموعی مالیاتی سرپلس گزشتہ خساروں کے مقابلے میں ایک نمایاں کامیابی ہے جبکہ بڑی صنعتوں میں6 فیصد اضافہ اور زرعی شعبے کی 2.9 فیصد ترقی حوصلہ افزا ہے۔اسٹیٹ بینک نے مالی سال 26-2025ء کے لیے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 3.75 تا 4.75 فیصد تک بڑھایا ہے، تاہم ان اہداف کے حصول کا دارومدارشرحِ سود میں کمی پرہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہرکیا کہ پہلی ششماہی میں غیرملکی سرمایہ کاری میں 43.3 فیصد کمی تشویش ناک ہے جس کی بنیادی وجہ خطے کے مقابلے میں مہنگی توانائی اور زیادہ شرحِ سود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار ہونے کے باوجود افراطِ زر 5 فیصد کے آس پاس ہونے کے باعث شرحِ سود کو سنگل ڈیجٹ تک لانے کے لیے مناسب فضا موجود ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ نجی شعبہ معاشی بحالی میں اپنا بھرپور کردارادا کر رہا ہے مگر بلند شرحِ سود اورناقابلِ برداشت توانائی قیمتوں کے ساتھ عالمی منڈی میں مقابلہ ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں برآمدات میں 9 فیصد کمی زر مبادلہ کے ذخائر اور حکومت کے اڑان پاکستان پروگرام کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ پچھلی ششماہی میں آئی ٹی برآمدات اورترسیلاتِ زر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کوسہارا دینے والے اہم عوامل رہے ہیں۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ حکومت کواب استحکام سے ترقی کے مرحلے میں داخل ہونا ہوگا اورمالیاتی گنجائش کوصنعتی ویلیوایڈیشن اورٹیکس نیٹ کی توسیع میں استعمال کیا جائے نہ کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ایسا پالیسی فریم ورک مرتب کیا جائے جو توانائی نرخوں اور مالیاتی لاگت کوکم کرکے صنعتی و معاشی تیز رفتاری کو یقینی بنائے، جس کا فائدہ عام آدمی اور صنعت دونوں کو ملے۔

قاضی جاوید

سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ:
ارب ڈالر ہو گیا
گزشتہ سال اسی
کے مقابلے میں
جو گزشتہ سال
خسارہ بڑھ کر
برا مدات میں
سرمایہ کاری
ا ئی ایم ایف
فیصد اضافہ
نے کہا کہ
انہوں نے
فیصد کمی
مالی سال
رہے ہیں
کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔