امریکا اور روس کے درمیان آخری جوہری معاہدہ بھی ختم ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260203-01-24
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تعداد کو محدود کرنے والا آخری معاہدہ بھی ختم ہوگیا، جس کے بعد دنیا میں جوہری ہتھیاروں پر کوئی بڑا عالمی پابندی کا معاہدہ باقی نہیں رہے گا۔یہ معاہدہ 2010ء میں امریکا اور روس کے درمیان طے پایا تھا اور اس کے تحت دونوں ممالک کو جوہری وار ہیڈز اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی تعداد محدود رکھنے کا پابند بنایا گیا تھا۔ نیو اسٹارٹ سرد جنگ کے بعد جوہری اسلحہ کنٹرول کے سلسلے کی آخری کڑی تھا۔روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ستمبر میں اس معاہدے میں ایک سال کی توسیع کی تجویز دی تھی، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر مثبت ردعمل دیا تھا تاہم اس کے بعد اس حوالے سے کوئی باضابطہ پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔روسی رہنما دمتری میدویدیف کے مطابق ماسکو کو اب تک امریکا کی جانب سے نیو اسٹارٹ پر کوئی سنجیدہ جواب موصول نہیں ہوا، اگرچہ روس نے بات چیت کے لیے وقت دیا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ جوہری ہتھیاروں کی حد بندی کے کسی بھی نئے معاہدے میں چین کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق ٹرمپ اس حوالے سے اپنے وقت پر مؤقف واضح کریں گے۔اسلحہ کنٹرول کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیو اسٹارٹ کی توسیع ایک سادہ سیاسی فیصلہ ہوسکتا تھا مگر امریکی انتظامیہ کے اندرونی طریقہ کار اور سفارتی عمل کی سست روی کے باعث یہ موقع ضائع ہوگیا۔ماہرین کے مطابق معاہدے کے خاتمے سے امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی دوڑ دوبارہ تیز ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی خدشے کے باعث دنیا کو تباہی کے قریب دکھانے والی علامتی ڈومز ڈے کلاک کو بھی آدھی رات کے مزید قریب کر دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں
پڑھیں:
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔ منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا، تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔