دنیا تباہی کے دہانے پر: امریکا،روس کے درمیان آخری جوہری معاہدہ بھی خاتمے کے قریب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تعداد کو محدود کرنے والا آخری معاہدہ نیو اسٹارٹ جمعرات کو ختم ہونے جا رہا ہے، جس کے بعد دنیا میں جوہری ہتھیاروں پر کوئی بڑا عالمی پابندی کا معاہدہ باقی نہیں رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ 2010 میں امریکا اور روس کے درمیان طے پایا تھا اور اس کے تحت دونوں ممالک کو جوہری وار ہیڈز اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی تعداد محدود رکھنے کا پابند بنایا گیا تھا۔ نیو اسٹارٹ سرد جنگ کے بعد جوہری اسلحہ کنٹرول کے سلسلے کی آخری کڑی تھا۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ستمبر میں اس معاہدے میں ایک سال کی توسیع کی تجویز دی تھی، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر مثبت ردعمل دیا تھا، تاہم اس کے بعد اس حوالے سے کوئی باضابطہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
روسی رہنما دمتری میدویدیف کے مطابق ماسکو کو اب تک امریکا کی جانب سے نیو اسٹارٹ پر کوئی سنجیدہ جواب موصول نہیں ہوا، اگرچہ روس نے بات چیت کے لیے وقت دیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ جوہری ہتھیاروں کی حد بندی کے کسی بھی نئے معاہدے میں چین کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق ٹرمپ اس حوالے سے اپنے وقت پر مؤقف واضح کریں گے۔
اسلحہ کنٹرول کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیو اسٹارٹ کی توسیع ایک سادہ سیاسی فیصلہ ہو سکتا تھا، مگر امریکی انتظامیہ کے اندرونی طریقہ کار اور سفارتی عمل کی سست روی کے باعث یہ موقع ضائع ہو گیا۔
ماہرین کے مطابق معاہدے کے خاتمے سے امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی دوڑ دوبارہ تیز ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی خدشے کے باعث دنیا کو تباہی کے قریب دکھانے والی علامتی ڈومز ڈے کلاک کو بھی آدھی رات کے مزید قریب کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ روس نے 2023 میں ہی نیو اسٹارٹ کے تحت جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت معطل کر دی تھی، جبکہ صدر ٹرمپ ماضی میں امریکا میں دوبارہ جوہری تجربات شروع کرنے کی بات بھی کر چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جوہری ہتھیاروں روس کے درمیان نیو اسٹارٹ کے مطابق
پڑھیں:
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔
دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.